BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 March, 2006, 16:56 GMT 21:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دورہ بش: مصروفیات خفیہ

امریکی سیکیورٹی اہلکار
سات آٹھ سو امریکی اہلکار بھی صدر بش سے پہلے پاکستان پہنچ چکے ہیں۔
امریکی صدر جارج بش کا دورۂ پاکستان غیر معمولی سیکیورٹی کے پردوں میں چھپا ہوا ہے۔

’ہم نے انہیں شکست دینے کا تہیہ کر رکھا ہے۔‘ یہ بات پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید نے کراچی بم دھماکے بعد اسلام آباد میں جمعرات کو ایک پریس کانفرنس کے دوران اس سوال کے جواب میں کہی کہ اس دھماکے کے پیچھے کیا محرکات ہوسکتی ہیں۔ وہ شدت پسندوں کے بارے میں بات کررہے تھے۔

شیخ رشید نے کہا کہ کراچی میں ہونے والے دھماکوں کی وجہ سے ’صدر بش کے دورۂ پاکستان میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔‘

تاہم جب انہوں نے کہا کہ ’اسلام آباد سیل نہیں کیا جائے گا اور لوگ اپنے روز مرہ کاموں کے لیے آزادانہ آجا سکیں گے‘، تو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی دبی دبی ہنسی بلاوجہ نہیں تھی۔

دارالحکومت کے لوگ اس سے پہلے صدر کلنٹن کی پاکستان آمد کا احوال بھگت چکے ہیں اور اب صدر بش کی آمد کے روزٹرانسپورٹ کی بندش کا سا سماں تھا۔ یہ بات تو پہلے سے کہی جارہی تھی کہ جس روز صدر بش کی آمد ہونے والی ہے اس روز اسلام آباد ایئر پورٹ پر دوسری پروازوں کی آمد و رفت بند رہے گی۔

شہر کے وہ حصے جہاں اعلی حکومتی عہدیدار رہتے ہیں، اہم سرکاری عمارتیں ہیں یا سفارتخانے ہیں وہ ہمیشہ کی طرح عام آدمی کی رسائی سے باہر ہیں۔

اسلام آباد کے تمام ہوٹلوں کو یہ احکامات جاری کیے گئے تھے کہ وہ دو سے پانچ مارچ کے دوران تمام تقریبات کی بکنگ منسوخ کر دیں۔ کسی مقامی اخبارنویس کو یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ صدر بش کی مصروفیات کیا ہیں۔

اگر کسی کو کچھ تھوڑی بہت معلومات تھیں بھی تو وہ واشنگٹن میں امریکی سٹیٹ ڈیپارٹنمٹ کی اس بریفنگ تک محدود تھی جو بعد میں امریکہ میں پاکستانی سفیر جہانگیر کرامت نے دہرا دی تھیں۔

البتہ اسلام آباد میں چکلالہ ملٹری ایئر بیس پر سی ون تھرٹی جہازوں کی لاتعداد پروازیں صدر بش کی آمد سے پہلے جاری تھیں۔ ان پروازں کے ذریعے سیکیورٹی آلات کے علاوہ وہ سات آٹھ سو امریکی سیکیورٹی اہلکار بھی پاکستانی سرزمین پر اترے جو صدر بش کے حفاظتی سکواڈ میں شامل ہیں۔

ذرائع ابلاغ کے جن چند نمائندوں کوصدر بش کی آمد اور واپسی کی کوریج کے لیے منتخب کیا گیا تھا وہ ہدایات کے مطابق پاکستانی وقت کے مطابق دو بجے فوج کے محکمہ تعلقات عامہ کےدفتر میں پہنچ گئے تھے۔

سب سے زیادہ خفیہ صدر بش کی آمد کا اصل وقت تھا۔ یہ بھی کسی کو یہ علم نہیں تھا کہ صدر بش کہاں کہاں جائیں گے اور کس سے ملیں گے ۔

کوئی کہتا تھا کہ وہ زیادہ وقت امریکی سفارتخانے میں گذاریں گے تو کوئی کہتا تھا کہ نہیں ایوان صدر میں۔ وفاقی وزیر اطلاعات تو ان حکام کا نام بتانے سے بھی گریزاں تھے جنہیں صدرمشرف کے ہمراہ صدر بش سے ملاقات کرنی تھی۔

بہرحال اندازے لامحدود ہیں۔

ایک سرکاری افسر نے بتایا کہ صدر مشرف کو ایئر پورٹ سے ایوان صدر تک لے جانے کے لیے تین راستے منتخب کیے گئے تھے اور حتمی راستے کا فیصلہ آخری لمحے کیا گیا۔

اسی بارے میں
جارج بش پاکستان پہنچ گئے
03 March, 2006 | پاکستان
بش کی آمد پر سکیورٹی سخت
03 March, 2006 | پاکستان
کشمیر:’امریکہ مدد کرے‘
13 February, 2006 | پاکستان
فوجی کارروائی میں 45 ہلاک
01 March, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد