’صدربش نے لالی پاپ تک نہیں دیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قومی اخبارات نے مجموعی طور صدربش کے دورہ پاکستان پر مایوسی کا اظہار کیا ہے اور پاکستان کے پالیسی سازوں پر نئے سرے سے سوچ بچار کرنےپر زور دیاہے۔ دی نیوز انڈیا میں اعلٰی سطحی مصروفیات اور فیصلوں کے برعکس پاکستان میں صدر بش کسی خوشنما معاہدے کو پایۂ تکمیل پہنچانے کے عمل میں شامل نہیں ہوئے اور دورے کے اختتام پر مشترکہ پریس کانفرنس کے موقع پر صدر بش جب خطاب کر رہے تھے تو ان کے عقب میں ناامیدی کے عالم میں کھڑے صدر مشرف کی کیفیت سمجھی جاسکتی تھی۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان نے آج تک امریکہ کے لیے جو خدمات انجام دیں اس کا صلہ صدر مشرف کو اپنے معزز مہمان کی جانب سے جمہوریت کی ضرورت پر ایک طویل لیکچر اوران کا مسئلہ کشمیر کے حل میں کوئی کردار ادا کرنے سے صاف انکار کی صورت میں نکلا۔‘ ٹائمز ’پاکستان کو خطے میں مشرق اور مغرب کے لیے اپنی سکیورٹی پالیسی پر نظر ثانی کرنی ہوگی کیونکہ نائن الیون کے حملوں کے بعد سے یہ امریکہ کے مفادات سے متصادم ہے۔ جب معاملہ افغانستان اور کٹّر اسلام سے نمٹنے کا آتا ہے تو تب سے اب تک ہونے والے واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان اب بھی دراڑیں موجود ہیں۔‘ ایکسپریس ’یہ واضح ہے کہ خطے میں امریکہ کا سٹرٹیجک پارٹنر پاکستان نہیں بلکہ انڈیاہے اور اب ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کے پالیسی ساز نئے حالات کی روشنی میں سوچ بچار کریں کیونکہ امریکہ پر بہت زیادہ انحصار کرنے کا وقت بہرحال ختم ہوچکاہے۔ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی اب چین کو سامنے رکھ کر ترتیب دینا ہوگی اور جس قسم کا ایٹمی معاہدہ امریکہ نے انڈیا سے کیا ہے اسی قسم کا پاکستان چین سے کر سکتا ہے۔ مسڑ بش نے اپنی ترجیحات واضح کر دی ہیں اور اب ہم پاکستان کے پالیسی سازوں کے ردعمل کے منتظر ہیں۔‘ خبریں ’ساری دنیا جانتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان امریکہ کی فرنٹ لائن سٹیٹ ہے اور اس جنگ میں اس نے امریکہ سے ہر ممکن تعاون کیا ہے لیکن اس کے باوجود امریکہ مطمئن نہیں اور مزید قدامات کا خواہشمند ہے۔ اس نے بھارت کے ہاتھ مضبوط کیے ہیں جس کا صاف مطلب پاکستان کو کمزور کرنا ہے۔ پاکستان کو بھی اب کسی شک وشبہ میں نہیں رہنا چاہیے۔امریکی صرف دوسروں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنا جانتے ہیں۔پاکستان کو اب امریکہ پر انحصار کرنے کی بجائے خودانحصاری کی بنیاد پر اپنی پالیسی بنانا ہوگی۔‘ نوائے وقت ’صدر بش کے بیان سے یہ واضح ہوچکاہے کہ امریکہ نے چین کا گھیراؤ کرنے کے لیے اب انڈیا کو خطے میں کلیدی کردار دینے کا فیصلہ کر لیاہے جبکہ پاکستان کا کردار دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کے اقدامات تک محدود ہو کر رہ گیاہے۔ ایران پر امریکی حملے کا کیا منصوبہ ہے اور اس لیئے پاکستان سے کیا مطالبات کیئے گئے ہیں اور وہ اس جنگ میں پاکستان سے کس قسم کا تعاون چاہتا ہے ؟یہ سب ابھی خفیہ ہے۔ یہ واضح ہے کہ امریکہ پاکستان کو وہ اہمیت نہیں دینا چاہتا جو اس کی نظر میں انڈیا کی ہے۔ان حالات میں پاکستان کے پاس صرف ایک راستہ بچا ہے اور وہ یہ کہ پاکستان میں ایک مثالی جمہوریت قائم کی جائے تاکہ ایک جمہوری پاکستان ایک جمہوری بھارت کامقابلہ کرسکے۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو امریکہ سے چنگل سے نکلنے کی کوشش بھی کرنی ہوگی۔‘ پاکستان ’اگرچہ اکیلے صدر بش ہی یہ جانتے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کا دورہ کیوں کیا لیکن عام پاکستانی یہ محسوس کرتا ہے کہ انہوں نے پاکستان کوایک لالی پاپ تک دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ نہ مسئلہ کشمیر کے حل پرکوئی پیش رفت ہوئی،نہ جمہوریت کے لیے کوئی نقشۂ راہ بنایا گیا، نہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو تسلیم کیا گیااورنہ ہی توھین آمیز کارٹونوں پر پاکستان کےغصہ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ ایک عام سوچ ہے کہ صدر بش کے دورے کا مقصد صدر مشرف کی ذات کو مضبوط کرنا تھا تاکہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھ سکیں تاہم یہ وقت ہی بتائے گا کہ صدر بش کا دورہ اپنے دوست کو مستحکم کرنے کا سبب بنے گا یا پھر انہیں کمزور کرنے کا۔‘ دی نیشن ’اس بات سے کوئی انکار نہیں کرے گا کہ کشمیر کے معاملے پر مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی مسٹر بش اس پوزیشن میں نہیں ہیں وہ برصغیر میں دائمی امن کی ضرورت کی خاطر انڈیا پر دباؤ ڈال سکیں۔‘ | اسی بارے میں بش کا دورہ: خواہش اور حقیقت02 March, 2006 | پاکستان پاک امریکی تعلقات ۔ تاریخی تناظر میں03 March, 2006 | پاکستان بش دورے سے توقعات کو جھٹکا04 March, 2006 | پاکستان ’اعلامیے میں کوئی ٹھوس بات نہیں‘04 March, 2006 | پاکستان ’بش کے دورے سے کچھ نہیں ملا‘04 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||