’القاعدہ کو ابھی شکست دینی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کو شکست دیں گے۔ انہوں نے بھارت کی طرز پر پاکستان کے ساتھ سویلین جوہری تعاون پر معذوری ظاہر کی تاہم کہا کہ امریکہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات کا خیال کرے گا۔ مسئلہ کشمیر پر صدر بش کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کے لیئے پاکستان اور بھارت کے رہنما آگے بڑھیں اور اس مسئلے کو حل کریں۔ اسلام آباد میں پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے ہمراہ ایک پریس کانفرس میں امریکی صدر نے کہا کہ کراچی میں جمعرات کو ہونے والی بم دھماکے نے ثابت کر دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ جاری رہے گی۔
صدر بش نے کہا کہ القاعدہ کو شکست دینے کے لئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن کو تلاش کر کے اس کو سزا دی جائے گی۔ صدر بش نے امریکہ اور پاکستان میں معلومات کے تبادلے پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں بھرپور انداز میں حصہ لے رہے ہیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ پاکستان میں جمہوریت کے فروغ کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کہ سن دو ہزار سات میں عام انتخابات شفاف ہوں۔
مسئلہ کشمیر پر صدر بش کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہت بہتر ہوئے ہیں،فضا بدلی ہے اور اس مسئلے کے حل کے لئے کئے گئے اعتماد سازی کے اقدامات جاری رہنے چاہیئں۔ امریکی صدر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کے بارے میں معاہدے پر بھی بات ہوئی۔ انہوں نے ایران، پاکستان ، بھارت گیس پائپ لائن کے حوالے سے امریکی تحفظات پر ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام دنیا کے لئے ایک خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے توانائی کے سیکریٹری سام بالڈون جلد ہی پاکستان کا دورہ کریں گے جس میں پاکستان کی توانائی کی ضروریات پر بات ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف نے ان کے ساتھ پاکستان کی توانائی کی ضروریات کا مسئلہ اٹھایا ہے۔ تاہم اس سوال پر کہ کیا امریکہ پاکستان کو بھی سویلین جوہری ٹیکنالوجی فراہم کرے گا، جارج بش نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کی ضروریات اور ان کی تاریخ مختلف ہیں۔ صدر بش نے پاکستان میں تعلیم کے فروغ اور زلزلہ زدہ علاقوں میں تعمیر نو کے عمل میں امریکی امداد کا اعادہ کیا۔ اس سے قبل صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ وہ صدر بش کے مشکور ہیں کہ انھوں نے پاکستان کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا پاکستان میں زلزلے کے بعد امریکی امداد خصوصا امریکی چنوک ہیلی کاپٹر کے بغیر زلزلہ زدہ علاقوں میں بر وقت امداد پہنچانے کا عمل ممکن نہ ہوتا۔ صدر جنرل مشرف نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کی سٹریٹجک پارٹنرشپ کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے صدر بش سے مسئلہ کشمیر کو حل کرانے کے لیئے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے کہا اور پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے مسئلے پر بھی بات کی۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وہ کچھ کر رہا ہے جو اسے کرنا چاہئے اور پاکستان کے ارادے بالکل واضح ہیں اور امریکہ کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے۔ | اسی بارے میں بش کا دورہ: خواہش اور حقیقت02 March, 2006 | پاکستان بش کی آمد پر سکیورٹی سخت03 March, 2006 | پاکستان جارج بش پاکستان پہنچ گئے03 March, 2006 | پاکستان بم دھماکہ خودکش حملہ تھا:پولیس02 March, 2006 | پاکستان یہ دہشت گردی ہے: صدر بش02 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||