BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 02 March, 2006, 22:16 GMT 03:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بم دھماکہ خودکش حملہ تھا:پولیس

 کراچی
دھماکے ایسی جگہ ہوئے جہاں پہلے ہی سے سکیورٹی سخت تھی
کراچی میں پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کی صبح امریکی قونصل خانے کے نزدیک ہونے والا بم دھماکہ دراصل خودکش حملہ ہی تھا۔

تاہم ابھی تک پولیس نے اس واقعے کے سلسلے میں کوئی گرفتاری نہیں کی ہے۔ اس حملےمیں امریکی سفارت خانے کے دو اہلکاروں سمیت کم سے کم چارافراد ہلاک ہوگئے تھے۔


صبح ہونے والے واقعے کے بعد سے ہی اس بات کی مسلسل قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ آیا یہ کوئی خودکش حملہ تھا یا ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا دھماکہ۔

لیکن شام میں کراچی پولیس کے سربراہ نیاز صدیقی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ تحقیقات میں اب تک ہونے والی پیش رفت کے نتیجے میں یہ بات یقینی ہوگئی ہے کہ حملہ ٹائم بم یا ریموٹ کنٹرول بم کا نتیجہ نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک ملنے والے شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ خودکش حملہ آور بھی اس واقعے میں ہلاک ہوگیا۔ ان کے مطابق بالکل درست عمر تو نہیں بتائی جاسکتی لیکن اندازاً حملہ آور کی عمر تیس برس کے لگ بھگ تھی۔

ان سوالوں کے جواب میں کہ حملے کا ممکنہ ذمہ دار گروپ کون سا ہوسکتا ہے یا مارا جانے والا خودکش حملہ آور پہلے سے حکام کو مطلوب تو نہیں تھا، نیاز صدیقی کا کہنا تھا کہ قیاس آرائیوں سے تحقیقات متاثر ہوسکتی ہیں اس لیے ابھی ان سوالوں کے قطعی جواب نہیں دیے جاسکتے۔

انہوں نے یہ تو نہیں بتایا کہ حملے میں کس طرح کا دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا لیکن مواد کی مقدار کے بارے میں بتاتے ہوئے نیاز صدیقی کا کہنا تھا کہ دس کلو گرام سے زیادہ دھماکہ خیز اس حملے میں استعمال ہوا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس بات کے کوئی شواہد نہیں ملے کہ حملہ آور کی گاڑی کے علاوہ بھی کوئی اور گاڑی یا مزید لوگ حملے میں شریک تھے۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا امریکی ایف بی آئی بھی اس دھماکے کی تفتیش میں شامل ہوگئی ہے، نیاز صدیقی نے بتایا ابھی تک تمام تر تحقیقات کراچی پولیس نے خود ہی کی ہیں لیکن عموماً اس طرح کے اہم کیسوں میں مختلف ملکی اور غیرملکی اداروں کا اشتراک عمل ہوتا ہے۔

جمعرات کے اس بم حملے کے بعد شہر میں حفاظتی اقدامات سخت ترین کردیے گئے ہیں اور خصوصاً جمعے کو ہونے والی ہڑتال کے تناظر میں حکام ملک کے اس سب سے بڑے شہر میں کوئی بھی خطرہ مول لینے کو تیار نہیں دکھائی دیتے۔

اسی بارے میں
کراچی بم دھماکے میں تین ہلاک
15 November, 2005 | پاکستان
کراچی میں بم دھماکہ
15 January, 2004 | پاکستان
کراچی میں بم دھماکہ
19 September, 2003 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد