مشرف حملہ: سزا کے خلاف اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف پر دو الگ قاتلانہ حملوں کے الزام میں فوجی عدالت سے سزائے موت پانے والے افراد کی پانچ مختلف اپیلوں پر جمعہ کو سپریم کورٹ نے باقاعدہ سماعت شروع کردی۔ سزا کے خلاف عدالت عظمی میں درخواست کرنے والوں میں پہلے مقدمے سے متعلق ایک عام شہری اور چار ائیر فورس اہلکار جبکہ دوسرے مقدمہ میں ملوث ایک لانس نائیک اور سات سویلین افراد شامل ہیں۔ ملزموں کے وکلا نے دلائل دیتے ہوئے آئین کے آرٹیکل ایک سو ننانوے کا حوالہ دیا اور کہا کہ اگر کسی فوجی عدالت نے بدنیتی، اپنے اختیار کے بغیر اور شہادت کے بغیر کارروائی کی ہو تو ایسی صورت میں اعلی عدالتوں کے پاس آئینی اختیار ہے کہ وہ اس مقدمہ کی سماعت کریں۔ وکلاء کے دلائل جاری تھے کہ سماعت سوموار تک ملتوی کردی گئی۔ سپریم کورٹ کا دو رکنی بینچ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چودھری اور جسٹس سید سعید اشہد پر مشتمل ہے۔ فوجی عدالت نے چودہ دسمبر سنہ دو ہزار تین کو جھنڈا چیچی راولپنڈی میں صدر پر حملہ کے ملزموں اور ائیر فورس کے ٹیکنیشنوں خالد محمود، نوازش علی، نیاز اور عدنان کو سزائے موت سنائی تھی۔ پچیس دسمبر سنہ دو ہزار تین کو جنرل مشرف پر دوسرے حملہ کے ملزموں میں ایک فوجی لانس نائیک اور سات سویلین شہری شامل تھے۔ انہیں بھی فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی جس کے خلاف ملزموں نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جسے سماعت کے لیے منظور کرلیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں القاعدہ پر کاری ضرب: مشرف27 September, 2004 | پاکستان کراچی: حفاظتی انتظامات سخت27 September, 2004 | پاکستان ’اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں‘ 27 September, 2004 | پاکستان گیارہ مبینہ دہشت گرد گرفتار28 September, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||