BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 September, 2004, 17:46 GMT 22:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں‘

پاکستانی وزیر داخلہ
پاکستانی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ کئی اہم شخصیات کو نشانہ بنایا جانے والا تھا
پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب احمد شیرپاؤ نے دعویٰ کیا ہے کہ امجد فاروقی کی ہلاکت اور نئی گرفتاریوں کے بعد صوبہ سرحد کی ایک اہم شخصیت سمیت متعدد اہم شخصیات یعنی ’وی وی آئی پیز، کو ہلاک کرنے کے مجوزہ منصوبوں کے متعلق اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ تاہم انہوں نے ان ’منصوبوں‘ کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

پیر کی شب پریس کانفرنس میں انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت کو یقین ہے کہ صوبہ سندھ کے شہر نواب شاہ میں سکیورٹی ایجنسیز کے ساتھ مقابلے کے بعد ہلاک ہونے والے مبینہ شدت پسند امجد فاروقی ہی ہے لیکن حکومت ان کا ’ڈی این اے، ٹیسٹ بھی کرا رہی ہے تاکہ مکمل تصدیق ہوسکے۔

حکومت تیس سالہ امجد فاروقی کو صدر مملکت جنرل پرویز مشرف پر دو ناکام جان لیوا حملوں کا اہم ملزم قرار دیتی رہی ہے۔ چھبیس ستمبر کو ہلاک کیے جانے والے امجد فاروقی کے سر کی قیمت حکومت نے دو کروڑ روپے مقرر کی تھی ۔

وزیر داخلہ کے مطابق امجد فاروقی کے تعلقات القاعدہ کے اہم شدت پسندوں کے ساتھ تھے جن میں مصری باشندہ سیف العدل،خالد شیخ محمد اور امریکی صحافی ڈینئل پرل کے مبینہ قاتل شیخ عمر بھی شامل ہیں۔

وزیر نے بتایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف پر پہلے بم حملے کے ماسٹر مائنڈ لیبیا کے شہری ابو فراش اور دوسرے حملے کے منصوبہ ساز حمزہ ربیحہ کے علاوہ ٹریننگ ماسٹر شامی شہری ابوبکر الصوری سے بھی امجد فاروقی کے قریبی تعلقات رہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ فروری سن دوہزار دو میں امجد فاروقی نے صوبہ سندھ کے شہر جیکب آباد کے ہوائی اڈے کو خود کش حملے میں تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

واضح رہے کہ جیکب آباد کا ہوائی اڈہ پاکستانی فضائیہ کے اس اہم ہوائی اڈے کے قریب ہی ہے جو طالبان کے خلاف حملوں میں امریکی افواج کے زیراستعمال رہا ہے۔

آفتاب شیر پاؤ کے مطابق مارچ سن دوہزار دو میں اسلام آباد کے ایک چرچ پر حملے سمیت ملک بھر میں متعدد دہشت گردی کے حملوں میں فاروقی ملوث تھے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر نے کہا کہ نواب شاہ سے امجد فاروقی کے بعض ساتھیوں کی گرفتاری کے علاوہ صوبہ سندھ کے ایک اور شہر سکھر سے بھی کچھ گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں لیکن ان کی تفصیلات انہوں نے نہیں بتائیں۔تاہم انہوں نے کہا کہ ان میں کوئی غیر ملکی نہیں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد