انسداد دہشتگردی: ابو حمزہ گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں ایک مسجد کے امام ابو حمزہ کو انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ابو حمزہ پہلے سے ہی حراست میں تھے اور ان پر امریکہ کے حوالے کرنے کے لئے مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ پولیس کے مطابق ابو حمزہ کی گرفتاری جمعرات کے روز لندن کی بیلمارش جیل میں پیش آئی۔ ان کی عمر سینتالیس سال ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جن ’کارروائیوں‘ کے لئے ابو حمزہ حراست میں ہیں وہ برطانیہ میں ہوئیں۔ وہ لندن کے ایک مسجد میں امام رہے ہیں اور ان پر شدت پسندی کو فروغ دینے والے پیغامات دینے کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔ جمعرات کی گرفتاری کے بعد برطانوی پولیس ان پر عدالت میں انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت فرد جرم عائد کرے گی۔ امریکی حکومت کی درخواست پر ان کے خلاف شدت پسندی کے الزامات کی وجہ سے امریکہ کے حوالے کرنے کے لئے مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ اگر ابو حمزہ پر انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت نیا مقدمہ چلتا ہے تو انہیں امریکہ کے حوالے کرنے سے متعلق مقدمے کو ترجیح نہیں ملے گی۔ امریکی حکام نے لندن کی عدالت میں ابو حمزہ پر جو گیارہ الزامات عائد کیے ہیں ان میں یہ بات بھی شامل ہے کہ انہوں نے یمن میں ان لوگوں کو مشورہ دیا تھا جو انیس سو اناسی میں اغواکاری میں تین برطانوی شہریوں کی موت میں ملوث تھے۔ ان پر یہ بھی الزامات ہیں کہ انہوں نے امریکی ریاست اوریگون کے شمال مشرق میں ایک شدت پسند تربیتی کیمپ قائم کرنے کی کوشش کی اور طالبان کے لئے کسی کو جنگ لڑنے کے لئے افغانستان بھیجا۔ ابو حمزہ کے وکیلوں کا کہنا ہے کہ اگر انہیں امریکہ کے حوالے کردیا گیا تو انہیں وہاں کی عدالت میں منصفانہ سماعت حاصل نہیں ہوگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||