| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ مشرف ہیں یا کمانڈو؟
آرمی ہاؤس پر نظر پڑتے ہی مجھ پر سکتہ طاری ہو گیا کیونکہ میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ آرمی ہاؤس کیا ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ آرمی ہاؤس کشمیر کے آرمی ہاؤس سے مختلف ہو لیکن اس سے انکار نہیں کہ ہمیں یہاں تلاشی کے کئی مراحل سے گزرنا ہوگا۔ ہوا یوں کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس کچھ اہلکاروں نے ہمیں دیکھتے ہی اندر آنے کا اشارہ کیا۔ گیٹ سے داخل ہوتے ہی ہم نے گاڑی روکی اور دعا سلام کے بعد ہمیں ایک کمرے میں بٹھا دیا گیا۔ بی بی سی کے نامہ نگار پال اینڈرسن گاڑی میں اپنی ڈائری بھول گئے تھے۔ وہ باہر نکلے ہی تھے کہ ایک اہلکار نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا ’کون کہتا ہے کہ مسلمان روایتی ہیں، جاہل ہیں۔ مسلمان عورت کو دیکھئے کہاں پہنچتی ہے۔ آپ کو دیکھ کر کیا کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ مسلمان عورت کمزور ہے، بے بس ہے۔ آپ اس ملک کے سب سے طاقتور شخصیت سے مل رہی ہیں۔‘ ابھی وہ اپنی بات پوری ہی کر رہے تھے کہ پال واپس آگئے۔
اتنی دیر میں وردی میں ملبوس چند فوجی ہمارے سامان کی تلاشی لینے لگے لیکن وائرلیس پر پیغام ملتے ہی انہوں نے ہمیں اندر جانے کی اجازت دے دی۔ لیکن پروٹوکول افسر نے معذرت کے ساتھ کہا کہ اندر تک ہمیں پیدل چلنا ہو گا مگر ہمارا سامان وہاں پہنچ جائے گا۔ میں چاہتی تھی کہ اس گھر کو دیکھوں، گھر کے خوبصورت لان کو دیکھوں تاکہ جنرل مشرف کی پسندو ناپسند کا کچھ اندازہ ہو سکے۔ آرمی ہاؤس کیا ہے چند چھوٹے چھوٹے مکانوں پر مشتمل ایک چھوٹی سی بستی جس میں اس ملک کے طاقت ور ترین شخصیت رہائش پذیر ہے۔ پہلی عمارت کے قریب پہنچ کر درجن بھر لوگ کمانڈوز کی طرح ہماری طرف بڑھ رہے تھے۔ انہیں دیکھ کر ہماری رفتار ذرا سی دھیمی ہو گئی اور میں نے اپنی ٹیم کو چوکنا کر دیا کہ تلاشی دوبارہ ہو رہی ہے۔ ابھی میں یہ کہہ ہی رہی تھی کہ ان درجن بھر کمانڈوز کی طرح چلنے والوں میں جنرل مشرف نظر آئے۔ ٹریک سوٹ پہنا ہوا تھا، چہرے پر مسکراہٹ تھی اور لمبے لمبے قدم لے رہے تھے۔ انہوں نے پرتپاک انداز میں ہمارا خیر مقدم کیا اور سب سے تعارف کرنے لگے۔ ’کیا آپ پہلے آ گئے ہیں یا ہمیں تاخیر ہوئی ہے۔‘ جنرل مشرف نے پوچھا۔ میں نے فوراً کہا ’نہیں جنرل صاحب آپ سے کوئی تاخیر نہیں ہوئی بلکہ ہم ہی پہلے آ گئے ہیں۔‘ انہوں نے کہا ’اچھا تو ہم کرکٹ دیکھ لیتے ہیں۔ پاکستان بڑا زبردست کھیل رہا ہے۔‘ ’اسی لئے جنرل صاحب بہت خوش لگ رہے ہیں۔‘ میں نے جواباً کہا۔ جنرل مشرف نے قہقہہ لگا کر اجازت لی۔ کچھ ہی دیر بعد ہمارا سارا سامان جنرل صاحب کے دیوان خانے میں پڑا تھا اور سکیورٹی کا تمام عملہ ہماری مدد کر رہا تھا۔ دیوان خانے میں بیٹھ کر مجھے احساس ہوا کہ جنرل مشرف سادہ زندگی گزارتے ہونگے۔ کیونکہ دیواروں پر آرٹ کے چند نمونے آویزاں تھے اور کچھ پر قرآن شریف کی آیات نقش تھیں۔ البتہ دیوار پر چند تلواروں کو دیکھ کر اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ جنرل مشرف اصلی فوجی ہیں۔ انٹرویو شروع ہونے سے چند منٹ قبل جنرل صاحب بڑے ہی مطمئن اور خوش کن انداز میں آئے اور کہنے لگے میں تیار ہوں۔ جنرل صاحب ہر سوال کو غور سے سن رہے تھے چہرے پر کوئی نہیں اور بار بار ہنس رہے تھے۔ پروگرام ختم ہونے کے فوراً بعد کہنے لگے ’بڑا لطف آیا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ برصغیر کے عوام میں بہت غلط فہمی ہے جسے آپ جیسے میڈیا کو دور کرنا چاہیے۔‘ میں نے فورا کہا ’جنرل صاحب ہم نے تو عملی طور پر ج اس کاثبوت بھی دے دیا ہے۔‘ جنرل مشرف نے زور کا قہقہہ لگا کر معنی خیز انداز میں دیکھا۔ میرے ٹیم میں شامل لوگوں نے جنرل صاحب سے گزارش کی کہ وہ فوٹو اتارنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے فورا کہا ’کیوں نہیں۔ آپ کو کس نے روکا ہے۔‘ فوٹو سیشن ہو گیا اور جنرل صاحب رخصت لے کر دوسرے کمرے میں چلے گئے لیکن میرے ذہن پر یہ نقش ہمیشہ کے لئے چھوڑ گئے کہ جنرل مشرف ابھی سیاست کے داؤ پیچ سیکھ نہیں پائے ہیں۔ وہ خالص فوجی ہیں اور اسی لئے سلام کے بجائے سب کو سیلوٹ مارتے ہیں۔ البتہ وہ کتنا سچ بولتے ہیں، میں اس کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں کر پائی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||