مشرف کا امیج بہتر نہیں ہوا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر مشرف اپنے بارے میں لوگوں کی رائے تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ صدر مشرف نے اپنی کتاب کی تقریب رونمائی میں کہا ہے کہ ’مجھے بہت سے لوگوں نے یہ مشورہ دیا تھا کہ میں یہ کتاب نہ لکھوں لیکن میں نے ایک جنرل کی طرح سخت فیصلہ لیا کہ مجھے لکھنا ہے۔‘ ان کی کتاب کی لانچنگ (رونمائی) کونسل آف فارن ریلیشنلز میں ہوئی۔ اس تقریب میں انہوں نے کتاب کے بارے میں ایک تقریر کی۔ جس میں انہوں نے یہ بتایا کہ کس طرح انہوں نے لکھنا شروع کیا اور کیسے اسے ملکمل کیا۔ اس تقریب میں صرف کونسل آف فارن ریلیشن کے ارکان کو ہی سوال پوچھنے کی اجازت تھی۔ انہوں نے اس تقریب میں یہ بھی کہا کہ انہوں نے پاکستان میں اقتصادی بہتری کی ہے اور عورتوں کی آزادی کو کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے جب یہ کہا کہ انہوں نے پاکستان میں ذرائع ابلاغ کو آزادی دی ہے یا ان کے بقول ’لبریٹ‘ کیا ہے تو تقریب میں ہنسی کی آوازیں سنائی دیں۔ ان کے تمام تر خطاب کا مقصد یہ محسوس ہوتا تھا کہ وہ امریکی سامعین کو یہ سمجھانے کو کوشش کر رہے ہیں کہ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے بعد سے جو حالات ہیں ان میں امریکہ کو ان جیسا آدمی نہیں مل سکتا اور دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ کا تمام تر انحصار پاکستان کی بقا پر ہے۔ یہاں یہ واضح رہے کہ امریکہ میں ان کی امیج ایک ایسے آدمی کی ہے جس کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہ کی جا سکی ہو۔ کچھ لوگ ان کے بارے میں یہ کہتے تھے کہ یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ ہمارے ساتھ ہیں بھی یا نہیں اور اس تقریب کے بعد بھی اس تصور میں کوئی تبدیلی محسوس نہیں کی گئی۔ | اسی بارے میں ’پاکستان کوئی بنانہ ریپبلک نہیں‘25 September, 2006 | پاکستان مشرف کتاب، فروخت ذرا کم کم 25 September, 2006 | پاکستان ’سی آئی اے نے کروڑوں ڈالر دیئے‘25 September, 2006 | پاکستان فوجی عدالتوں پر اختیارنہیں: کورٹ25 September, 2006 | پاکستان ’پاکستان کوئی بنانہ ریپبلک نہیں‘25 September, 2006 | پاکستان ہاں! مسلم لیگ ق میں نے بنوائی تھی: مشرف25 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||