’پاکستان کوئی بنانہ ریپبلک نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتوار کو وسیع پیمانے پر بجلی کے بریک ڈاؤن کے بعد حکومت کا تختہ الٹ جانے کی ان گنت افواہوں پر تبصرہ کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ پاکستان ’بنانہ ریپبلک‘ نہیں بلکہ ایک مضبوط ملک ہے۔ صدر مشرف آج کل اپنی کتاب کی رونمائی کے لیئے امریکہ میں ہیں جہاں ان سے بجلی کی بندش کے بعد پاکستان میں پھیلنے والی افواہوں کی لہر پر تبصرہ کرنے کو کہا گیا تھا۔ انہوں نے کہا: ’یہ افواہیں بکواس ہیں‘۔ گزشتہ روز جب تکنیکی وجوہات کی بنا پر پاکستان کے کئی شہروں میں بجلی کی ترسیل معطل ہوگئی تھی، تو اخباروں کے دفاتر اور صحافیوں کو ہزاروں کی تعداد میں ٹیلفون کالز اور ای میلز موصول ہوئیں جن میں ایک ہی سوال تھا کہ کیا واقعی مشرف حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا ہے۔ افواہوں میں سب سے زیادہ یہ بات تھی کہ جوائنٹس چیف آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل احسان نے عنانِ اقتدار سنبھال لی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاکستان کے ایک ٹیلی وژن چینل نے صدر مشرف کو افواہوں پر تبصرے کے دوران مسکراتا ہوا دکھایا۔ انہوں نے کہا: ’ ان افواہوں پر اب میں کیا کہوں۔ خدا کا شکر ہے کہ پاکستان آئین و قانون سے عاری رجواڑوں کا ملک نہیں ہے۔‘ انہوں نے کہا ’مجھے بتایا گیا ہے کہ بجلی کی بندش کا مسئلہ غازی بروتھا میں پیدا ہوا تھا جس کے بعد افواہوں نے جنم لیا۔ یہ تو ایسے ہے جیسے حالات کی خرابی کے لیئے بجلی کا جانا ضروری ہو۔‘ رائٹرز کے مطابق افواہوں میں اتنی زیادہ شدت تھی کہ جنرل مشرف کے ہمراہ امریکہ میں موجود وزیرِ اطلاعات محمود علی درانی کو باقاعدہ تردید جاری کرنی پڑی کہ حکومت تبدیل نہیں ہوئی۔ | اسی بارے میں جنرل مشرف کا میڈیکل چیک اپ24 September, 2006 | پاکستان پاکستان: بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن 24 September, 2006 | پاکستان ’ آرمیٹیج سچے ہیں یا مشرف‘25 September, 2006 | پاکستان ’مشرف کو امریکہ کی منظوری چاہیے‘18 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||