BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 25 September, 2006, 01:38 GMT 06:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ آرمیٹیج سچے ہیں یا مشرف‘
مشرف
’صدر مشرف کی کتاب سے ایک نئی بحث جنم لے گی اور (ہند پاک) امن کے عمل کو بھی دھچکا لگے گا‘
’صدر مشرف کی کتاب سے ایک نئی بحث جنم لے گی اور (ہند پاک) امن کے عمل کو بھی دھچکا لگے گا‘۔


پاکستان کے صدر جنرل مشرف کی کتاب کے کچھ حصے پڑھنے والے پاکستانی صحافی حامد میر نے ان حصوں کے بارے میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ اس کتاب میں انہوں نے (جنرل مشرف) کارگل پر زیادہ توجہ دی ہے اور خود کو کارگل کا ہیرو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج نے جنگ جیت لی تھی۔ اس لیئے میرا خیال ہے کہ اس بات سے ایک نئی ’کنٹروورسی‘ جنم لے گی اور پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کے عمل کو بھی اس سے دھچکا لگے گا۔

انہوں نے کہا کہ انیس سو ننانوے میں جب کارگل کی جنگ ہو رہی تھی تو اس وقت پاکستان کی فوج اور حکومت کا کہنا تھا کہ یہاں مجاہدین تحریکِ آزادی میں مصروف ہیں اور پاکستانی فوج کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اب تو جنرل مشرف نے کہا ہے کہ فوج کے پانچ یونٹ مجاہدین کے ساتھ باقاعدہ مل کر جنگ کر رہے تھے اور جنرل مشرف نے بار بار اس میں مجاہدین کا لفظ استعمال کیا ہے، فریڈم فائٹر کا اور مجاہدین کا‘۔

ہیرو ثابت کرنے کی کوشش
 ’ اس کتاب میں انہوں نے (جنرل مشرف) کارگل پر زیادہ توجہ دی ہے اور خود کو کارگل کا ہیرو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے

حامد میر کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال میں اس کتاب سے جو سب سے بڑا مسئلہ پیدا ہو گا وہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کا بھی ہو گا کیونکہ اس کتاب میں جنرل پرویز مشرف نے بڑی تفصیل سے لکھا ہے کہ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد واشنگٹن میں ڈی جی آئی ایس آئی جنرل محمود احمد اور امریکہ کے نائب وزیر خارجہ رچرڈ آرمٹیج کے درمیان جو ملاقات ہوئی تھی اس میں رچرڈ آرمٹیج نے پاکستان پر بمباری کی دھمکی دی تھی اور اسی قسم کی باتیں اُن سے کولن پاول نے بھی کی تھیں۔ اب آپ کو اچھی طرح پتہ ہے کے رچرڈ آرمٹیج نے اس دھمکی کی تردید کر دی ہے اور صدر بش نے بھی اس سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ لیکن صدر مشرف نے لکھا ہے کہ آرٹیج نے کہا تھا کہ پاکستان کو ’سٹون ایج‘ یا پتھر کےزمانے کی طرف دھکیل دیا جائے گا‘۔
آرمٹیج کی دھمکی، پاول کی باتیں
 جنرل مشرف نے لکھا ہے: ڈی جی آئی ایس آئی جنرل محمود احمد کو رچرڈ آرمٹیج نے پاکستان پر بمباری کی دھمکی دی تھی اور اسی قسم کی باتیں میں ان سے کولن پاول نے بھی کی تھیں

حامد میر کا کہنا ہے کہ ’اس کتاب کے بعد بڑا سوال یہ پیدا ہو گا کہ آرمٹیج اور کولن پاول سچے ہیں یا جنرل مشرف‘۔

حامد میر کے مطابق اس کتاب میں پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں انتہائی سخت زبان استعمال کی گئی ہے اور انہیں آٹو کریٹ کہا۔ انہوں نے نہ صرف نواز شریف اور شہباز شریف کے بارے میں سخت باتیں کی ہیں بلکہ ان کے والد کے بارے میں بھی انہوں نے مضحکہ خیز انداز میں انگریزی میں ابا جی کا لفظ استعمال کیا ہے‘۔

کتاب کی فروخت کے بارے میں ایک سوال پر حامد میر نے کہا ہے کہ ’یہ کتاب کم اور ہاٹ کیک زیادہ ہے۔ اس جنرل پرویز مشرف کو ذاتی طور پر تو بہت آمدنی ہو گی لیکن اس سے پاکستان کے اندر پولرائیزیشن کی سیاست بڑھے گی۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور ان کے درمیان مفاہمت کا جو امکان تھا وہ ختم ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ ایک بڑا سوال پیدا ہو جائے گا کہ فوجی وردی میں موجود ایک جنرل جو سرکاری ملازم ہے وہ کس طرح ایک کتاب لکھ سکتا ہے‘۔

نواز اور مشرف
کارگل میں جنرل مشرف اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو ایک خودکار مشین دکھا رہے ہیں 12 اکتوبر کی صبح نواز شریف نے مشرف کی سبکدوشی کا حکم جاری کیا اور شام کو فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا

حامد میر کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس کتاب میں ایک انتہائی اہم بات لکھی ہے کہ ’I can also say with authority that in 1999 our nuclear capability was not yet operational. یہ ایک بڑی ہی اہم بات ہے۔ یہ پاکستان کا ایک ’سٹیٹ سیکرٹ‘ ہے اور ایک حاضر سروس آرمی چیف کہہ رہا ہے کہ 1999 میں پاکستان کی نیوکلیئر صلاحیت آپریشنل نہیں تھی اگر انڈیا حملہ کر دیتا تو پاکستان جواب نہیں دے سکتا تھا۔ اب اگر موجودہ آرمی چیف جو سرکاری ملازم بھی ہے اس طریقے سے کتاب میں اس طرح کی باتیں لکھے گا تو کل کوئی بھی فیڈرل سیکریٹری کتاب لکھ سکتا ہے، کوئی دپٹی سیکریٹری لکھ سکتا ہے اور اسے کوئی روک نہیں سکے گا، کیونکہ وہ کہہ سکتا ہے کہ اگر سِٹنگ آرمی چیف کتاب لکھ سکتا ہے تو میں بھی لکھ سکتا ہوں اور کوئی روک نہیں سکے گا۔ تو اس طرح یہ کتاب پاکستان میں بہت سے تنازعات کو جنم دے گی‘۔

اس سوال کے جواب میں، کہ جنرل مشرف ایک طرف ہند پاک تعلقات کی بات کر رہے ہیں اور دوسری طرف امریکہ کے دورے کر رہے ہیں تو اس کے درمیان اس طرح کی باتیں جو تنازعات پیدا کر سکتی ہیں کیا کتاب بیچنے کے نسخے ہیں؟

حامد میر کا کہنا تھا۔
’میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ یہ کتاب بیچنے کے نسخے ہیں لیکن جس طریقے سے جنرل مشرف نے کتاب لکھی ہے اور اس کتاب کی جو زبان ہے وہ بڑی سادہ ہے۔ اور لگتا ہے کہ یہ کتاب انہوں نے خود لکھی ہے اور ان ہی کی زبان ہے۔ میں انہیں عرصے سےجانتا ہوں اور یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ کتاب انہوں نے خود ہی لکھی ہے

شہباز شریف
جنرل مشرف نے شہباز شریف کا ذکر بڑے تضحیک آمیز انداز میں کیا ہے

لیکن انہوں نے جس انداز سے کتاب لکھی ہے وہ کسی سربراہِ مملکت کے شایانِ شان نہیں ہے، مثلاً انہوں نے اس کتاب میں ایک جگہ 12 اکتوبر 1999 کا واقعہ لکھا ہے جو لیفٹیننٹ کرنل شاہد علی کے حوالے سے لکھا ہے، جو وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں گھس گئے اور انہوں نے وہاں وزیراعظم اور ان کے بیٹے کو گرفتار کر لیا۔ انہوں نے صفحہ 161پر لیفٹیننٹ کرنل شاہد علی کے حوالے سے لکھا ہے کہ جب شاہد نے سب کو ڈیٹین کر لیا تو شہباز شریف غائب تھے اور جب انہوں نے شہباز شریف کے بارے میں پوچھا تو پتہ چلا کہ وہ باتھ روم میں گھسے ہوئے ہیں۔ تو انہوں نے کچھ دیر انتظار کیا اور جب شہباز شریف باہر نہیں آئے تو لیفیٹیننٹ کرنل شاہد علی نے شاؤٹ کیا اور جب شہباز شریف کو باہر نکالا تو شہباز شریف اس وقت فلش آؤٹ کر رہے تھے۔ انہوں نے شہباز شریف کا ذکر بڑے تضحیک آمیز انداز میں کیا ہے‘۔
جنرل مشرف کا ہاٹ کیک
 ’یہ کتاب کم اور ہاٹ کیک زیادہ ہے۔ اس جنرل پرویز مشرف کو ذاتی طور پر تو بہت آمدنی ہو گی لیکن اس سے پاکستان کے اندر پولرائیزیشن کا سیاست بڑھے گی

حامد میر کہتے ہیں کہ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ شہباز شریف اور نواز شریف جنرل مشرف کے سیاسی مخالف ہیں لیکن جنرل مشرف کے لیول کا ایک عالمی لیڈر شہباز شریف جیسے بہت ہی چھوٹے آدمی کے لیئے ایک پورا پیراگراف یہ بتانے کے لیئے لکھے کہ وہ گرفتاری سے بچنے کے لیئے باتھ روم میں ’گھسا ہوا‘ تھا، کچھ مناسب نہیں لگتا۔ یہیں انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ انہیں یہ پتہ نہیں ہے کہ شہباز شریف انہیں ہٹانے کے فیصلے میں شامل تھا یا نہیں تھا کیونکہ شہباز نے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ ’میں آپ کو ہٹانے کے فیصلے میں شامل نہیں تھا‘۔

حامد میر کا کہنا ہے کہ ’اس طرح کی باتوں سے پاکستان کے سیاسی مبصرین کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ انہوں نے اس کتاب میں اپنے منصب کے شایانِ شان باتیں نہیں لکھیں‘۔

مشرفوعدہ خلافی کے عادی
مشرف کی وردی پر واشنگٹن پوسٹ کی تنقید
مشرفامریکہ کا دوست
امریکہ نے جنرل مشرف کو اپنا دوست قرار دیا ہے
صدر مشرفتابعداروں کا انتخاب
صدر مشرف کو جمالی سے زیادہ تابعدار چاہیے تھا
ہارڈ ٹاک پاکستان
جنرل مشرف کا تفصیلی انٹرویو
ملاقاتیہ ملاقات ہوئی
کیوں ہوئی، کیسے ہوئی، کیسی ہوئی؟
صدر مشرفصدرمشرف یا کمانڈو
پنڈی میں صدر مشرف سے ملاقات کا احوال
مشرفحکومت جائز یا ناجائز
مشرف حکومت پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد