| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرف حکومت کو درپیش جواز کا بحران
چار سال قبل اقتدار میں آنے کے بعد سے جنرل پرویز مشرف دوسرے محاذوں کے علاوہ ایک ایسے محاذ پر بھی برسرپیکار ہیں جو شاید سب سے مشکل محاذ ہے۔ اور وہ ہے جواز کا محاذ، جہاں ہتھیار کے بجائے معقول دلیل ہی قابل قبول ہوتی ہے۔ ملکی محاذ پر قدامت پسند جنرل مشرف سے اس لئے ناخوش ہیں کہ بقول ان کے وہ واشنگٹن سے ملنے والے ’ہدایات‘ کی بلا چوں و چرا حمایت کرتے ہیں، جبکہ ترقی پسند اس بات ان سے شاکی ہیں کہ ملک میں حقیقی جمہوریت کی راہ میں وہ رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی محاذ پر مغربی ممالک دہشت گردی سے نمٹنے کے بارے میں ان کی نیت اور صلاحیت کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس مضمون میں جنرل مشرف اور کروڑوں پاکستانیوں کے درپیش معروضی صورت حال کا جائزہ لیا گیا ہے۔
گزشتہ ماہ کینیڈا میں بسنے والے پاکستانیوں سے خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ انتہا پسندی پاکستان کو کہیں کا نہیں چھوڑے گی۔ اس سے قبل جون میں امریکی تاجروں سے خطاب میں انہوں نے اپنے اقدامات کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکی ایما پر نہیں لڑ رہے ہیں بلکہ یہ پاکستان کے مفاد میں ہے۔ لیکن اس طرح کے بیانات قائل کرنے میں مؤثر ثابت نہیں ہوئے ہیں۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد انہوں نے اس کا اعلان نہیں کیا بلکہ یہ سب کچھ گیارہ ستمبر کے بعد امریکی دباؤ میں آکر کیا گیا۔ ان کے ناقدین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ ان کی گزشتہ سال بارہ جنوری کی شہرۂ آفاق تقریر کے خدوخال واشنگٹن میں سنوارے گئے تھے۔ دوسری جانب وہ اس حقیقت سے بھی چشم پوشی کر رہے ہیں کہ افغانستان میں روس کے خلاف جاری جنگ کو انسانی ایندھن فراہم کرنے کے لئے ملک میں موجودہ انتہا پسندی کی آبیاری خود فوج نے کی تھی۔ طالبان حکومت سے متعلق پاکستان کی پالیسی کو بھی سر کے بل کھڑا کر دینے کی وجہ سے ان کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی۔ اکتوبر دوہزار ایک میں فوج کی اعلیٰ قیادت میں تبدیلیاں آئیں۔ جنرل مشرف نے انہیں معمول کی کارروائی قرار دیا۔ حالانکہ کئی افسران کو طالبان حامی ہونے کے شبہ میں امریکی دباؤ میں ریٹائر کیا گیا۔
القاعدہ کے سربراہ اسامہ کے بارے میں انہوں نے پہلے کہا کہ ان کے خیال میں وہ ہلاک ہو چکے ہیں تاہم بعد میں نئے شواہد کی روشنی میں انہوں نے ان کے زندہ ہونے کا اعتراف تو کیا مگر کہا کہ وہ پاکستان میں نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں ان کے نئے بیان کے مطابق اسامہ زندہ ہیں، وہ پاکستان میں ہو سکتے ہیں، لیکن انہیں پکڑنا بہت دشوار ہوگا۔ تاہم حکومت اب تک پانچ سو کے لگ بھگ القاعدہ کے مشتبہ ارکان کو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کر چکی ہے۔ اور اندرونی طور پر کسی ممکنہ ردعمل سے بچنے کے لئے بھارت کے ساتھ بیانات کے گولے داغے جا رہے ہیں۔ عراق کے مسئلہ پر انہوں نے اپنا لب لہجہ محتاط رکھتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی قیادت میں عراق میں قیام امن کے لئے فوج بھیج سکتا ہے۔ تاہم ملکی سطح پر اس خیال کو قطعی پذیرائی نہیں ملی۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عراق پر امریکی قبضہ کی تمام مکتبہ ہائے فکر نے مخالفت کی تھی۔ چار سال قبل جب انہوں نے اقتدار پر قبضہ کیا تو خود کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹر کہلوانے کی بجائے ’چیف ایگزیکٹو‘ کہلوایا اور کہا کہ ملک میں مارشل لاء نہیں ہے۔ حالانکہ ملک میں پورا سیاسی نظام فوج کے تحت آ چکا تھا۔
اس کے بعد بھارتی وزیراعظم سے ملاقات کے لئے سفارتی تقاضوں کو بہانا بنا کر انہوں نے خود کو صدر مملکت مقرر کیا اور بعد میں ریفرنڈم کروا کر اپنی صدارت کا جواز تراشا۔ اس کے بعد سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق تین سال کے اندر اقتدار منتخب حکومت کو منتقل کرنے کے لئے متنازعہ قواعد و ضوابط کے تحت انتخابی عمل پورا کیا گیا۔ ایل ایف او اور وردی کے مسئلہ پر حزب اختلاف کی جانب سے اسمبلیوں میں احتجاج اب بھی جاری ہے اور جنرل مشرف بحیثیت صدر ایوان سے رسمی خطاب نہیں کر سکے ہیں۔ اپنے کسی اقدام کے لئے جواز ڈھونڈھ نکالنا شاید زیادہ مشکل نہ ہو تاہم خلق خدا کو قائل کرنے کے لئے اس کی بنیاد کا مروجہ دستور اور نظریہ پر استوار ہونا ضروری ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||