BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 18 September, 2006, 16:31 GMT 21:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مشرف کو امریکہ کی منظوری چاہیے‘

 قومی اسمبلی
قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیئے التواء کا شکار ہو گیا ہے
ایم ایم اے کے رہنما حافظ حسین احمد کا کہنا ہے کہ صدر مشرف حدود آرڈیننس کے ترامیمی بل کی منظوری امریکہ سے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے یہ بیان قومی اسمبلی کے اجلاس کے غیر معینہ مدت کے لیئے التواء کے بعد پارلیمنٹ کیفے ٹیریا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایم ایم اے کا موقف رہا ہے کہ اس بل کا مقصد خواتین کے حقوق کا تحفظ نہیں بلکہ اسے امریکہ کو خوش کرنے کے لیئے سامنے لایا گیا ہے اور آج اجلاس کے التواء سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی کوشش کر رہا ہے۔

اس سوال پر کہ کیا ایم ایم اے نے حدود بل پر حکومت کا ساتھ دے کر نواب اکبر بگٹی کے قتل کا معاملہ دبانے میں ’فرینڈلی اپوزیشن” کا کردار ادا نہیں کیا، حافظ حسین احمد نے کہا کہ اگرحکومت نے ایسی کوئی کوشش کی بھی تو وہ ناکام ہوئی ہے کیونکہ اپوزیشن جماعتیں آج بھی اپنے ایجنڈے پر متفق ہیں۔

اس سے قبل پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیئے ملتوی کر دیا گیا۔ حکومت اس اجلاس کے دوران بارہا کوششوں کے باوجود تحفظِ حقوقِ نسواں بل اسمبلی میں بحث کے لیئے پیش کرنے میں ناکام رہی اور بالاخر اس نے یہ موقف اختیار کیا کہ وہ تمام جماعتوں کے اتفاقِ رائے سے ہی یہ بل ایوان میں لانا چاہتی ہے۔

وفاقی وزیرِ قانون وصی ظفر
تحفظِ حقوقِ نسواں بل کو سیاسی اور مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی گئی اور اس سلسلے میں متحدہ مجلس عمل نے بھی اہم کردار ادا کیا

وفاقی وزیرِ قانون وصی ظفرنے اجلاس ملتوی ہونے کے بعد اخباری نمائندوں کو بتایا کہ اجلاس کے ملتوی ہونے کے بعد سلیکٹ کمیٹی کا وجود ختم ہو چکا ہے اور اب اس کی بحالی کے دو ہی طریقے ہیں، ایک تو یہ کہ سپیکر قومی اسمبلی اس کے احیاء کی رولنگ دیں یا ایک نئی سلیکٹ کمیٹی تشکیل دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ حدود آرڈیننس کا ترمیمی بل ختم نہیں ہوا اور اسے اس ماہ کے اواخر یا آئندہ ماہ پیش کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحفظِ حقوقِ نسواں بل کو سیاسی اور مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی گئی اور اس سلسلے میں متحدہ مجلس عمل نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

یاد رہے کہ پیر کی صبح ہی مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے بھی ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ تحفظِ حقوق نسواں بل کو اسمبلی میں پیش کرنے میں مزید دو ہفتوں کی تاخیر ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو بل پیش کرنے کی کوئی جلدی نہیں اور وہ اس سلسلے میں تمام جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام جماعتوں کے درمیان بل پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیئے وقت درکار ہے اور اس کے علاوہ حکومت کی حلیف جماعتوں کے بھی اس بل پر کچھ تحفظات ہیں جنہیں دور کرنا ضروری ہے۔

اسی بارے میں
حکومت، اپوزیشن میں معاہدہ
11 September, 2006 | پاکستان
ایم ایم اے: حدود مسودہ مسترد
14 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد