BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 July, 2006, 17:59 GMT 22:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ورنہ اس دنیا میں بھی خمیازہ‘

اجلاس میں متحدہ مجلس عمل کے سرکردہ رہنما لیاقت بلوچ اور چند اراکین اسمبلی سمیت مقامی علماء اور مشائخ بھی شریک تھے
پاکستان میں علماءء اور مشائخ کے ایک اجلاس کے بعد حدود قوانین سے اختلاف کرنے والوں کو دھمکی دی گئی ہے کہ وہ ’اپنی زبان اور کلام کو لگام دو ورنہ اس دنیا میں بھی اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا‘۔


حکومت کی جانب سے حال میں حدود قوانین میں ترمیم کے فیصلے کے بعد ملک میں اِن متنازعہ قوانین کے بارے میں بحث چھڑ گئی ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے بعض علماءء اور مشائخ کا ایک اجلاس ہوا جس میں حکومت کو خبرادار کیا گیا ہے کہ اگر حدود قوانین میں ردو بدل کی گئی تو وہ مزاحمت کریں گے۔

اجلاس میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے ایک سرکردہ رہنما لیاقت بلوچ اور چند اراکین اسمبلی سمیت مقامی علماء اور مشائخ بھی شریک ہوئے۔ تاہم کوئی بڑا مفتی یا سیاسی رہنما اس میں شریک نہیں تھا۔

اجلاس کا اعلامیہ پڑھتے ہوئے مولانا عبدالمالک نے حدود قوانین کی مخالفت کرنے والی سیاسی جماعتوں، خواتین اور انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا کے نمائندوں کو دھمکی دی ہے کہ وہ ’اپنی زبان اور کلام کو لگام دیں ورنہ ان کو اس دنیا میں بھی اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔

اعلامیے میں اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیل کو غلط قرار دیتے ہوئے انہوں نے کونسل کے اراکین کو برا بھلا کہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس کونسل کو تحلیل کرکے جیّد علماءء کو اس میں شامل کیا جائے۔

حدود قوانین کے تحت چور کا ہاتھ کاٹنے، زنا کرنے والے کو سنگسار کرنے، شراب پینے اور جھوٹ بولنے پر کوڑے مارنے کی سزائیں بھی شامل ہیں لیکن سب سے زیادہ اختلاف رائے زنا اور زنا بالجبر کے متعلق شقوں پر پائے جاتے ہیں۔

ان شقوں کے تحت زنا بالجبر کی شکایت کرنے والی خاتون پر لازم ہے کہ وہ الزام ثابت کرنے والے کے خلاف چار گواہ پیش کرے اور بصورت دیگر اُسے سزا ملے گی۔ خواتین کے حقوق کی تنظمیں کہتی ہیں کہ الزام ثابت کرنے سے پہلے ہی محض زنا کی شکایت کرنے والی خاتون کو زنا ہونے کے الزام میں ہی قید کرلیا جاتا ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل پر تنقید
 اعلامیے میں اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیل کو غلط قرار دیتے ہوئے انہوں نے کونسل کے اراکین کو برا بھلا کہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس کونسل کو تحلیل کرکے جیّد علماء کو اس میں شامل کیا جائے

ان کے مطابق زنا بالجبر کی متاثرہ سینکڑوں خواتین آج بھی ملک بھر کی جیلوں میں قید ہیں۔

کچھ مقامی علماءء اور مشائخ کے اجلاس کے اعلامیے میں جنرل ضیاءالحق کے دور میں نافذ کردہ حدود آرڈیننس کو حدود اللہ قرار دیتے ہوئے ان میں ردو بدل کی مزاحمت کا اعلان کیا گیا ہے۔

سخت گیر اسلامی سوچ کے حامل کچھ علماء کا یہ اجلاس خواتین کے حقوق کی تنظیموں کے منعقد کردہ سیمینار سے محض ایک روز بعد ہوا ہے جس میں خواتین نے حکومت کی جانب سے حدود قوانین میں ترمیم کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا تھا کہ حدود قوانین کو کلی طور پر منسوخ کیا جائے۔

گزشتہ ہفتے صدر جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا تھا جس میں اسلامی نظریاتی کونسل، خواتین کو با اختیار بنانے کے کمیشن، اٹارنی جنرل اور دیگر نے صدر کو تفصیلی بریفنگ دی تھی اور اجلاس میں متفقہ طور پر ترامیم کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔

حزب مخالف کی بعض مدہبی جماعتوں کے کچھ رہنما کہتے رہے ہیں کہ حکومت نے ایک بار پھر اس متنازعہ معاملے کو اس وقت چھیڑا ہے جب حزب محالف کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں صدر مشرف کے خلاف ایک بڑا اتحاد بنا کر تحریک چلانے کی بات چیت ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق حکومت اس معاملے کو چھیڑ کر سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔ جبکہ حکومت ان کے اس دعوے کو مسترد کرتی رہی ہے۔

واصح رہے کہ ماضی میں بھی سیاسی حکومتوں نے حدود آرڈیننس میں ترامیم کی کوشش کی لیکن مذہبی جماعتوں کے دباؤ کی وجہ سے ایسا نہیں کرپائیں۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جنرل ضیا الحق کے نافذ کردہ ان قوانین میں ترمیم کرنے میں جنرل پرویز مشرف کامیاب ہوگئے تو یہ ان کی بہت بڑی کامیابی ہوگی۔

اسی بارے میں
عدالت انصاف کرے گی: درانی
22 June, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد