BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 February, 2006, 12:21 GMT 17:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حدود قوانین منسوخ کرنے کا مطالبہ

قومی اسمبلی
اجلاس سے متحدہ مجلس عمل اور مسلسم لیگ(ن) کے ارکان نے واک آؤٹ کیا
پاکستان کی قومی اسمبلی میں منگل کے روز حکومت اور حزب اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی، حدود آرڈیننس کو ختم کرنے پر رضامند ہوگئے جبکہ متحدہ مجلس عمل اور مسلم لیگ نواز نے حدود قوانین کے خاتمے کی مخالفت کرتے ہوئے واک آوٹ کیا۔

دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب منگل کو نجی کارروائی کے دن پیپلز پارٹی کی جانب سے شیری رحمٰن، اعتزاز احسن اور نوید قمر سمیت بارہ اراکین اسمبلی نے حدود قوانین کی تنسیخ کا بل پیش کیا اور حکومت نے اس کی مخالفت نہیں کی اور سپیکر نے بل مزید کارروائی کے لیے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔

سپیکر کی رولنگ پر مذہبی جماعتوں کی اتحاد متحدہ مجلس عمل نے احتجاج کیا اور مسلم لیگ نواز نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ دونوں فریقین نے مطالبہ کیا کہ ووٹنگ کرائی جائے اور سپیکر نے جب ایسا نہیں کیا تو انہوں نے علامتی طور پر واک آؤٹ کیا۔

زنا سے متعلق اسلامی قوانین حدود آرڈیننس، سابق فوجی حکمران ضیاء الحق نے متعارف کرایا تھا جس کے تحت متاثرہ خاتون کو چار گواہ پیش کرنا لازم ہے اور خاتون کی گواہی آدھی تصور کی جاتی ہے۔

 منگل کے روز حکومت کی جانب سے حدود قوانین کی تنسیخ کے متعلق بل کی حمایت کو تجزیہ کار ایک بڑی اور ڈرامائی تبدیلی قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حدود قوانین منسوخ کرنے کا یہ بل منظور ہوگیا تو یہ اس حکومت، سیکولر سوچ رکھنے والی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی بڑی جیت اور ملک کی مذہبی جماعتوں کے لیے ایک دھچکا ثابت ہوگا۔

1979 میں نافذ کردہ یہ آرڈیننس ابتدا سے ہی متنازعہ رہا ہے اور انسانی حقوق، خواتین کے مسائل سے متعلق تنظیمیں اور کئی غیر مذہبی سیاسی جماعتیں اس قانون کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔

ماضی میں اس کی منسوخی کے بل حزب اختلاف کی جماعتوں کے اراکین نے پیش کرنے کی کوشش کی تھی لیکن حکومت یہ کہہ کر مخالفت کرتی رہی کہ وہ خود اس بارے میں بل لانا چاہتی ہے۔

لیکن منگل کے روز حکومت کی جانب سے حدود قوانین کی تنسیخ کے متعلق بل کی حمایت کو تجزیہ کار ایک بڑی اور ڈرامائی تبدیلی قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حدود قوانین منسوخ کرنے کا یہ بل منظور ہوگیا تو یہ اس حکومت، سیکولر سوچ رکھنے والی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی بڑی جیت اور ملک کی مذہبی جماعتوں کے لیے ایک دھچکا ثابت ہوگا۔

قومی اسمبلی کے قوانین کے مطابق اب متعلقہ قائمہ کمیٹی اس ِبل کے متن کا جائزہ لے گی اور اپنی رپورٹ ایوان میں پیش کرے گی اور بعد میں اکثریت رائے سے منظوری کی صورت میں ہی حدود آرڈیننس کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔

اسی بارے میں
سندھ حکومت میں اختلافات
16 January, 2006 | پاکستان
اپوزیشن کا وفد روک لیا گیا
23 January, 2006 | پاکستان
اپوزیشن کا کچھ نکات پر اتفاق
02 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد