اپوزیشن کا وفد روک لیا گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی حکام نے ڈمہ ڈولہ کے متاثرہ علاقے کا جائزہ لینے کے لیے جانے والے اپوزیشن رہنماؤں اور صحافیوں کے وفد کو باجوڑ ایجنسی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ستّر گاڑیوں پر مشتمل اس قافلے کو پشاور سے چالیس کلومیٹر شمال میں یکہ گنڈ چیک پوسٹ پر روک لیا گیا۔ ایک مقامی افسر محمد جمیل کا کہنا ہے کہ ’ ہمیں وفاقی حکومت کی جانب سے حکم ہے کہ اپوزیشن رہنماؤں کو آگے نہ جانے دیا جائے‘۔ قبائلی علاقے میں داخلے کی اجازت نہ ملنے پر حزب اختلاف کے رہنماؤں مولانا فضل الرحمان، قاضی حسین احمد، مخدوم امین فہیم، چوہدری نثار احمد، عمران خان اور دیگر نے چیک پوسٹ پر ہی احتجاجی مظاہرے سے خطاب کیا۔ رہنماؤں نے امریکی حملے کی مذمت میں تقاریر کیں۔ ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ صدر مشرف کو مستعفٰی ہو جانا چاہیے اور باجوڑ پر حملے کا مسئلہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھایا جانا چاہیے۔ قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان نے اپنی تقریر میں فوج پر کڑی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’آج وزیرستان میں بہت بڑے علاقے اور دیہات خالی ہوگئے ہیں۔ لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ جس کی وجہ اپنی پاکستانی فوج ہے۔ ’انہیں شرم کرنی چاہیے‘۔
مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ انہیں افسوس ہے آج ملک کی حکمرانی ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہے جن کا قبلہ و کعبہ نیویارک اور واشنگٹن ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا تھا کہ’امریکہ کو اس معاملے پر معافی مانگنی چاہیے اور یہ یقین دہانی کروانی چاہیے کہ ایسا پھر نہیں ہو گا۔ امریکہ کے کسی نمائندے نے اب تک معافی نہیں مانگی ہے بلکہ انہوں نے امریکہ سے احتجاج کرنے سے متعلق پاکستان کے بیانات کی نفی کر کے ان لوگںوکے منہ پر تھپڑ مارا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان اپنے عوام کو مطمئن کرنے کے لیے یہ بیان دے رہا ہے اور اس نے کسی قسم کا احتجاج نہںی کیا ہے‘۔ ادھر باجوڑ سے اطلاعات ہیں کہ حزب اختلاف کے قائدین کے استقبال کے لئے آنے والے جماعت اسلامی اور جمعیت علما اسلام کے جلوس کو بھی دربن اور لکڑے کے مقام پر آگے جانے نہیں دیا گیا۔ باجوڑ کے ایم این اے مولانا محمد صادق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس سرکاری اقدام کی سخت مذمت کی۔ دریں اثناء پشاور میں سرحد اسمبلی نے ایک قرارداد بھی منظور کی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ امریکی سفیر کو ملک سے جانے کا حکم دیا جائے۔ اس متفقہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ’ ہم وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ باجوڑ میں امریکی حملے میں معصوم شہریوں کی ہلاکت پر امریکی سفیر کو ناپسندیدہ شخص قرار دیا جائے‘۔ قرارداد میں امریکہ سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس حملے پر سرکاری طور پر معافی مانگے۔ | اسی بارے میں بش سے باجوڑ پر بات ہوگی: شوکت22 January, 2006 | پاکستان ڈمہ ڈولا میں امریکہ مخالف مظاہرہ22 January, 2006 | پاکستان امریکی حملے نہ ہوں: مشرف21 January, 2006 | پاکستان ’غیرملکی مرنے کا ثبوت نہیں‘21 January, 2006 | پاکستان ’ڈمہ ڈولا، شناخت کا کام جاری‘19 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||