’ڈمہ ڈولا، شناخت کا کام جاری‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سرحدی گاؤں ڈمہ ڈولا پر گزشتہ جمعہ ہونے والے امریکی حملے میں ہلاک ہونے والے چار غیر ملکیوں کی شناخت کے لیے ابھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں افغانستان کی سرحد کے ساتھ واقع گاؤں ڈمہ ڈولا پر امریکی حملے میں اٹھارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں مبینہ طور پر القاعدہ سے تعلق رکھنے والے چار غیر ملکی بھی شامل تھے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان میں سے تین غیر ملکی القاعدہ تنظیم کے اہم رکن محدت مرسی، عبد الرحمٰن المصری المغربی اور ابو عبیدہ المصری شامل تھے۔ تاہم امریکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ان خبروں کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ محدت مرسی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بم بنانے کے ماہر تھے اور امریکی حکومت نے ان کے سر کی قیمت پچاس لاکھ ڈالر مقرر کی تھی۔ عبدالرحمٰن المصری القاعدہ کے نائب سربراہ ایمن الظواہری کے داماد تھے۔ حملے کے فوراً بعد امریکی خفیہ ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ اس حملے میں ایمن الظواہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ تاہم پاکستان کے خفیہ ذرائع کا کہنا تھا کہ ایمن الظواہری حملے کے وقت ڈمہ ڈولا میں موجود نہیں تھے۔ | اسی بارے میں باجوڑ:صحافیوں کے داخلے پر پابندی17 January, 2006 | پاکستان باجوڑ حملہ، حکمران جماعت کا احتجاج16 January, 2006 | پاکستان حملے کا سبب کھانے کی دعوت16 January, 2006 | پاکستان ’حملہ ناقص انٹیلی جنس کا نتیجہ تھا‘15 January, 2006 | پاکستان ڈمہ ڈولا میں مُلا فقیر محمد سے ملاقات 16 January, 2006 | پاکستان باجوڑ حملے کا نشانہ ایمن الظواہری؟ 14 January, 2006 | پاکستان باجوڑ بمباری پر شدید احتجاج14 January, 2006 | پاکستان باجوڑ بمباری پر پاکستان کا احتجاج14 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||