ڈیم پر پھر اجلاس بلائیں: اپوزیشن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے جنوبی صوبے سندھ میں متحدہ حزب اختلاف نے متنازعہ کالاباغ ڈیم پر بحث کے لیے ایک بار پھر صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کالاباغ ڈیم کے معاملے پر گزشتہ دوماہ میں حزب اختلاف کے مطالبے پر ہونے والا یہ تیسرا اجلاس ہوگا۔ حزب اختلاف نے اجلاس کی طلبی کے لیے ریکوزیشن پیر کے روز سپیکر مظفر حسین شاہ کے حوالے کی۔ اجلاس بلانے کا مطالبہ متحدہ حزب اختلاف کی جانب سے کیا گیا ہے جس میں اپوزیشن کے دونوں اتحاد اے آرڈی اور متحدہ مجلس عمل شامل ہیں۔ قواعد کے تحت اپوزیشن کی جانب سے درخواست کیے جانے کے بعد اجلاس دو ہفتے کے اندر اندر منعقد ہونا ضروری ہے۔ حزب اختلاف کے مطابق انہوں نے اجلاس کی ریکوزیشن اس لیے کی ہے کہ حکومت کالاباغ ڈیم اور دیگرمتنازعہ لیکن اہم امور پر صورتحال کو جان بوجھ کر عوام سے پوشیدہ رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔ قائم مقام قائد حزب اختلاف مخدوم جمیل الزماں نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت نے پچھلے اجلاس کے نتیجے سے بھی ارکان کو نہ تو آگاہ کیا نہ ہی اپوزیشن کو اسی کے بلائے ہوئے اجلاس میں کالاباغ ڈیم اور دوسرے اہم معاملات پر بات کرنے دی۔ انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف چاہتی ہے کہ سندھ کے عوام کو اس بات سے آگاہ کیا جائے کہ جنرل پرویز مشرف اور ان کے ہی اتحادی الطاف حسین میں سے کالاباغ ڈیم اور این ایف سی جیسے اہم امور پر کون سچ بول رہا ہے اور کون جھوٹ۔ کالاباغ ڈیم کے تنازعے پر دوماہ میں حزب اختلاف کی جانب سے بلایا کیا جانے والا یہ تیسرا اجلاس ہوگا تاہم اس مرتبہ اجلاس کے ایجنڈے میں کالاباغ ڈیم کے ساتھ ساتھ نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ اور بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے اپوزیشن کی ریکوزیشن پر اجلاس دسمبر اور جنوری میں منعقد ہوئے تھے اور پچھلا اجلاس گزشتہ جمعے کو ہی ملتوی ہوا ہے۔ |
اسی بارے میں کالاباغ سے پہلے بھاشا اور منڈا: اخبار کیا کہتے ہیں19 January, 2006 | پاکستان دریائےسندھ پر ڈیمز کے خلاف احتجاج18 January, 2006 | پاکستان کالاباغ ڈیم کے خلاف ہڑتال کی کال19 December, 2005 | پاکستان تحفظات وزیر اعظم کے گوش گزار03 December, 2005 | پاکستان پولیس اور طلباء میں جھڑپ25 November, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||