کالاباغ سے پہلے بھاشا اور منڈا: اخبار کیا کہتے ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف کے کالاباغ ڈیم کے بجائے بھاشا اورمنڈا ڈیم بنانے کے فیصلے پر تمام بڑے پاکستانی اخبارات نے مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے لیکن چند اخباروں نے باجوڑ کے معاملہ پر ان کی خاموشی پر تنقید کی ہے۔ دی نیشن نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ صدرمشرف نے اپنے خطاب میں باجوڑ میں حالیہ امریکی بمباری پر بالکل بات ہی نہیں کی جو قابل تشویش بات ہے۔ روزنامہ جنگ لاہور کےمدیر ارشاد حقانی نے بھی اپنے تبصرہ میں یہی موقف اختیار کیا ہے کہ باجوڑ پر صدر کی خاموشی عوامی توقعات کے منافی ہے اور اس سے ان خدشات کو تقویت ملتی ہے جو بعض حلقوں کی طرف سے پیش کیے جاتے ہیں کہ پاکستان امریکہ کا تابع مہمل بن چکا ہے اور اپنی حاکمیت کی خلاف ورزی پر احتجاج بھی نہیں کرسکتا۔ تاہم جنگ کے ادارتی صفحہ پر صدر مشرف کی تقریر کی تعریف میں اداریہ سمیت چار مضامین شائع ہوئے ہیں جن میں بھاشا ڈیم بنانے کے فیصلہ کو اہم، تاریخی اور درست کہا گیا ہے جبکہ ان کی تقریر کو مدلل اور مدبرانہ کا عنوان دیا گیا ہے۔ روزنامہ جنگ نے ہی اپنے ادارتی نوٹ میں تبصرہ کیا ہے کہ صدر پرویز مشرف نے قومی مالیاتی ایوارڈ میں ترمیم اور بڑے ڈیموں کی تعمیر کے حوالہ سے جو اعلانات کیے ہیں ان سے طویل عرصہ سے جاری تذبذب کی کیفیت ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ دی نیوز نے آج جمعرات کواپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ مشرف نے کالاباغ کو چھوڑ کر بھاشا اورمنڈا ڈیم بنانے کا اعلان کرکے صحیح معنوں میں ’پاکستان پہلے‘ پر عمل کیا ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ صدر مشرف کے خطاب سے یہ معاملہ اب اس نہج پر پہنچ گیا ہے کہ کراچی سے خیبر تک چیخ و پکار کے مقابلہ کے بجائے اس معاملہ پر اب ٹھنڈے دماغ سے بحث ہوسکے گی۔ اخبار کا کہنا ہے کہ صدر مشرف نے اپنے فیصلہ سے صوبوں کے درمیان تفریق کو کئی درجہ کم کردیا ہے۔ اخبار کا خیال ہے کہ جب تک حکومت کالاباغ ڈیم کے ناقدین کو قائل کرنے کے لیے حقیقی کوششیں نہیں کرتی اس وقت تک قومی مالیاتی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کو دیے جانے والے فوائد کا زیادہ اثر نہیں ہوگا۔ روزنامہ دی نیشن نے تبصرہ کیا ہے کہ صدر مشرف پہلے سربراہ مملکت ہیں جنہوں نے ڈیم کے معاملہ کو ایک مشن کے طور پر لیا اور صوبہ سرحد اور سندھ میں اس معاملہ پر عوامی جلسے بھی کیے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ صدر مشرف کو اس معاملہ پر سب سے زیادہ مزاحمت سندھ سے ملی جہاں ان کی ذاتی اور آئینی ضمانتیں بھی ان کے قریبی اتحادیوں کو قائل نہیں کرسکیں جس سے صوبوں کے درمیان عدم اعتماد کی گہرائی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
روزنامہ ڈان نے اپنے اداریہ میں کہا ہے کہ کالاباغ ڈیم کے معاملہ سے جس طرح نپٹا گیا ہے اس جذبہ کو زندہ رکھنے کی ضرورت ہے اور ملک کے لیے صوبائی خود مختاری بہت اہمیت کی حامل ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ صدر نے قومی مالیاتی ایوارڈ کا عبوری اعلان کرکے اچھا کیا لیکن حکومت کواس کا مستقل حل بھی نکالنا چاہیے۔ ڈیلی ٹائمز نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ کالاباغ ڈیم نہ بنانے کا فیصلہ صدر مشرف کی ایسی پسپائی ہے جسے دراصل پیش قدمی کہا جاسکتا ہے۔ اخبار کا خیال ہے کہ اس فیصلہ سے سندھ کے ایک سیاستدان کے سوا ساری قوم نے اطمینان کا سانس لیا ہے کہ محاذ آرائی بالآخر ختم ہوئی۔ اخبار نے تجزیہ کیا ہے کہ پیپلزپارٹی میں ڈیم کے معاملہ پر اختلافات ہیں اور اس کے کچھ سندھی رہنما کسی بھی ڈیم کے بنائے جانے کے خلاف ہیں اور کچھ سکردو ڈیم بنانے کے حق میں ہیں۔ اخبار کہتا ہے کہ دیکھنا یہ ہے کہ اب پیپلزپارٹی کیا موقف اختیار کرے گی۔ ڈیلی ٹائمز کا یہ بھی کہنا ہےکہ کالاباغ ڈیم پر پسپائی، قومی مالیاتی ایوارڈ میں صوبوں کے لیے نرمی اور زلزلزلہ کے بعد تعمیر نو سے صدر مشرف کو وہ ہوا مل جائے گی جو سنہ دو ہزار سات کے الیکشن میں جانے اور وردی نہ اتارنے کےلیے انہیں درکار ہے لیکن اخبار کے خیال میں سنہ دو ہزار سات کے بعد منظر سے نہ ہٹنا صدر مشرف کی غلطی ہوگی۔ |
اسی بارے میں دریائےسندھ پر ڈیمز کے خلاف احتجاج18 January, 2006 | پاکستان ’پہلے بھاشااور منڈا ڈیم بنیں گے‘ 17 January, 2006 | پاکستان قوم پرستوں کو بھاشا بھی نامنظور17 January, 2006 | پاکستان ’کالا باغ ڈیم کا اعلان جلد ہوگا‘29 December, 2005 | پاکستان ’ کالا باغ اتنا بڑا مسئلہ ہے نہیں‘23 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||