دریائےسندھ پر ڈیمز کے خلاف احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے متنازعہ کالا باغ ڈیم سمیت پانچ ڈیموں کی تعمیر کے اعلان کے بعد سندھ میں اپوزیشن اور قوم پرست جماعتوں کے اتحاد اینٹی گریٹر تھل کنال اور کالا باغ ایکشن کمیٹی کی کال پر حیدر آباد میں ایک بڑا احتجاجی مارچ کیا گیا ہے۔ سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدر آباد میں بدھ کو ہونے والے اس مارچ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ اس جلوس نے شہر کی سڑکوں پر گشت کرنے کے بعد حیدر چوک میں ایک جلسے کی صورت اختیار کر لی۔ اینٹی کالاباغ ڈیم اور تھل کینال ایکشن کمیٹی میں پاکستان پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ، جمعیت علما اسلام (ف) کے علاوہ قوم پرست جماعتیں، عوامی تحریک، سندھ ترقی پسند پارٹی، سندھ نیشنل فرنٹ اور ملک کی دیگر دینی جماعتیں شامل ہیں۔
حیدرآباد شہر سے باہر ہٹڑی کے علاقے میں مارچ کے شرکاء کے قافلوں کی آمد دوپہر بارہ بجے سے ہی شروع ہوگئی تھی۔ جس وجہ سے قومی شاہراہ شام تک بلاک رہی اور پاکستان کے مختلف علاقوں سے آنے والی ٹریفک معطل رہی۔ مارچ کی قیادت سید قائم علی شاہ، نثار کھوڑو، رسول بخش پلیجو، ڈاکٹر قادر مگسی، ممتاز میمن، ممنون حسین اور خالد محمود سومرو کر رہے تھے۔ مارچ میں خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔ جو ’گو مشرف گو‘، ’مشرف ہٹاؤ ملک بچاؤ‘ اور ’ڈیم ڈیم شیم شیم‘ کے نعرے لگا رہی تھیں۔ ریلی کے شرکاء نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ’کالا باغ، بھاشا ڈیم نہ منظور، مشرف تمارے ساتھ جھگڑا ہے، ڈیم بناؤ سندھ سکھاؤ‘ کے نعرے درج تھے۔
احتجاج سے قبل بدھ کی صبح اینٹی کالا باغ ڈیم اور تھل کینال ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کا ایک اجلاس ہوا، جس میں صدر پرویز مشرف کی تقریر اور آْبی ذخائر کی تعمیر کے اعلان پر غور اور فکر کیا گیا۔ ایکشن کمیٹی کے رہنما رسول بخش پلیجو کے مطابق اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دریائے سندھ پر کسی قسم کا کٹ برداشت نہیں کیا جائیگا اور جدوجہد جاری رکھی جائیگی۔ |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||