کالاباغ کی سائیٹ یا کھنڈرات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے انتہائی متنازعہ کالا باغ ڈیم بنانے کے لیے ’سائیٹ‘ پر لاکھوں روپے مالیت کی مشینری زنگ آلود حالت میں اب بھی موجود ہے اور بنائے گئے مکانات اور دفاتر کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ گزشتہ بائیس برسوں سے کام بند ہے اور واپڈا کے بارہ ملازمین جن میں ایک سٹور کیپر، آٹھ چوکیدار، ایک ڈرائیور، ایک الیکٹریشن اور ایک وائرلیس آپریٹر شامل ہیں، اب بھی یہاں تعینات ہیں۔ زیادہ تر ملازمین اکثر چھٹیوں پر ہوتے ہیں لیکن انہیں تنخواہیں واپڈا سے باضابطہ طور پر ملتی ہیں۔ کالا باغ دریائے سندھ کے دائیں کنارے پر واقع ہے اور اس علاقے میں زیادہ تر زمینیں نواب آف کالا باغ کی ہیں جو ملک بھی کہلاتے ہیں۔ صوبہ پنجاب کے ضلع میانوالی کے صدر دفتر سے ستر کلومیٹر کے فاصلے پر جبکہ کالا باغ شہر سے تقریبا پینتالیس کلومیٹر کے فاصلے پر اس متنازعہ ڈیم کی سائیٹ واقع ہے۔ کالا باغ ڈیم کی سائیٹ پیر پہائی نامی گاؤں کے پاس ہے لیکن نام نوابوں کے شہر کالا باغ سے منسلک ہے۔ ڈیم کی سائیٹ سے جیسے ہی دریا موڑ لیتا ہے وہاں جھیل نما دریا کا پیٹ بن جاتا ہے اور یہی جھیل ڈیم بنانے کے لیے موزوں سمجھی جاتی ہے۔ اس مقام پر اگر دریا کے بہنے کی سمت یعنی مغرب کی طرف چہرہ کرکے اگر کھڑے ہوں تو دائیں جانب صوبہ سرحد کے کوہاٹ ضلع کی حدود ہیں جبکہ دائیں کنارے پر صوبہ پنجاب کے ضلع میانوالی اور پیچھے کی جانب ضلع اٹک کی حدود ہیں۔
کچے اور ریتلے پہاڑوں میں پیر پہائی گاؤں کے قریب جہاں دریائے سندھ موڑ کاٹتا ہے وہاں راولپنڈی سے آنے والے گندے پانی کا نالا بھی گرتا ہے اور وہ میلا پانی خاصی دور تک دریائے سندھ کے بائیں کنارے ساتھ ساتھ چلتا صاف دکھائی دیتا ہے۔ کوہ ہمالیہ سے نکلنے والے دریائے سندھ کا شمار دنیا کے طویل ترین دریاؤں میں ہوتا ہے۔ اس دریا کو کوئی عباسین تو کوئی انڈس کچھ دریائے سندھ تو بعض لوگ سندھو دریا کہتے ہیں۔ اس دریا میں سینکڑوں چشمے، برساتی نالے اور چھوٹے دریاؤں کے علاوہ گندے پانی کے نالے بھی گرتے ہیں۔ کالا باغ ڈیم کی سائیٹ پر انیس سو چوراسی کے قریب کچھ کام شروع ہوا اور انجنیئرز نے دریا کے اوپر ایک ’کیبل وے‘ نصب کی جو اب بھی موجود ہے۔ اس جگہ دو کمرے بنے ہیں جو انتہائی خستہ حالت میں ہیں۔ ایک کمرے میں بڑا ٹیبل بھی ٹوٹی پھوٹی حالت میں پڑا ہے۔ اس ’کیبل وے‘ میں بیٹھ کر انجنیئرز نے اس وقت دریا کے اندر ’ڈرِلنگ‘ کا کچھ کام شروع کیا تھا لیکن شدید سیاسی مخالفت کی وجہ سے سن انیس سو چھیاسی میں کام روک دیا گیا اور آج تک دوبارہ شروع نہیں ہوسکا۔ ڈیم کی سائیٹ کے آس پاس آبادی دور دور تک پھیلی ہوئی ہے اور ایک ’سنگل ٹریک‘ خستہ حال سڑک بنی ہوئی ہے۔ ڈیم سے تھوڑے فاصلے پر سیمنٹ کے چار پانچ بڑے کارخانے بھی لگے ہیں۔ سرخ بالوں والے بھادر خان نامی اس مجوزہ ڈیم کے چوکیدار نے بتایا کہ وہ انیس سو بانوے سے کالا باغ ڈیم کی سائیٹ پر تعینات ہیں اور اس دوران کئی بار انہوں نے جب بھی سنا کہ ڈیم بن رہا ہے تو وہ خاصے خوش ہوئے۔
انہوں نے ڈیم بنانے کے لیے لائی گئی وہ کرین بھی دکھائی جس کے ارد گرد ککر کے درخت اگ چکے ہیں اور ٹائر پنکچر ہیں۔ ساتھ ہی ایک گودام اور لیبارٹری کی حالت بھی ناگفتہ بے ہے۔ ڈیم سائیٹ پر افسران اور ملازمین کی رہائش کے لیے کالونیاں بھی ہیں لیکن ان مکانوں کے دروازے اور کھڑکیاں ٹوٹ پھوٹ چکی ہیں۔ پیر پہائی گاؤں کے ایک مکین ساٹھ سالہ حاجی سردار خان نیازی نے بتایا کہ بائیس برس قبل اس کالونی میں خاصی رونق تھی لیکن اب یہ بھوت بنگلے بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق یہاں کے آس پاس کے گاؤں سے تین ڈاٹسن چلتی ہیں اور کوئی آمد و رفت کا دیگر ذریعہ نہیں۔ سردار خان نے کہا کہ ’ڈیم سے متاثر تو ہم ہوں گے لیکن مخالفت سندھ اور سرحد والے کیوں کرتے ہیں؟‘ جب انہیں بتایا کہ سرحد والے کہتے ہیں کہ ان کا ایک شہر نوشہرہ کے ڈوبنے کا خطرہ ہے اور مردان ویلی سیم اور تھور کا شکار ہوگی، کالا باغ ڈیم کی سائیٹ پر موجودگی کے دوران ایک فیملی وہاں پکنک مناتے بھی ملی۔ پنجاب کے ضلع خانیوال سے تعلق رکھنے والے محمد ابرار افضل نے بتایا کہ وہ ایک مقامی فیکٹری میں ملازم ہیں۔ شمائلہ افضل نے کہا جب تک ڈیم بنے اس سے پہلے یہاں ایک سیر و تفریح کے لیے انتظام کیا جائے تو اس جگہ پر بہت لوگ آئیں گے۔ شمائلہ افضل نے کہا کہ بچوں کے لیے جھولے، چھوٹا پارک، موٹر بوٹ اور دیگر تفریحی سہولتوں سے یہاں کے لوگوں کو روزگار بھی مل سکتا ہے۔ ان دنوں ملک میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا چرچا ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف زور دے رہیں کہ یہ ڈیم بننا چاہیے۔ لیکن صوبہ سندھ اور سرحد میں مخالفین جلوس نکال کر ڈیم کی تعمیر کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ تو کیا یہ سائیٹ کھنڈرات کا منظر پیش کرتی ہی رہے گی؟ اس سوال کا جواب وقت ہی بتائے گا۔ |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||