BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 January, 2006, 17:31 GMT 22:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ حکومت میں اختلافات

الطاف حسین
حکومت کو اپنی حلیف جماعت سے کئی امور پر اختلافات کا سامنا ہے
وفاقی حکومت کے بعد ایم کیو ایم اور سندھ حکومت میں اندرونی اختلافات کی جھلک منظر عام پر آئی ہے۔

یہ اختلافات اس وقت کھل کر سامنے آئے جب متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین اور سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم نے ایک دوسرے کے خلاف بیانات جاری کیے ۔

اتوار کے روز الطاف حسین نے کراچی میں سندھی میڈیا فورم کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ارباب غلام رحیم کے خلاف کئی شکایات آرہی ہیں۔ وہ کبھی حج ، عمرہ یا کبھی تبلیغ تو کبھی اعتکاف میں مصروف ہوتے ہیں۔

الطاف نے بتایا کہ ان شکایات کا متحدہ کی رابطہ کمیٹی جائزہ لے رہی ہے جو خود فیصلہ کریگی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اگر چھ گھنٹے کے مختصر عرصے میں تاریخی احتجاج کرسکتے ہیں تو چھ گھنٹوں میں حکومت بھی گراسکتے ہیں۔

دوسری جانب سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کا کہنا ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ کی رضامندی ہوگی اس وقت تک وہ وزیر اعلیٰ رہینگے ۔

پیر کے روز جاری کردہ ایک بیان میں ارباب غلام رحیم نے کہا کہ ’ماضی میں سندھ کی وزارت اعلیٰ ڈیڑھ دو سال سے زیادہ عرصہ نہیں چلی جبکہ میں نے مقررہ وقت کا زیادہ عرصہ عزت سے گزار لیا ہے اور اس کے بعد جو اللہ تعالیٰ کی مرضی ہوگی وہی ہوگا‘۔

ارباب غلام رحیم نے الطاف حسین کے بیان کے بارے میں کہا کہ ’میں تو ایک گناہگار بندہ ہوں ، اپنے گناہوں کی معافی عوام اور الطاف بھائی کی دعاؤں کے لیے حج پر جاتا ہوں‘۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’میرے لیے یہ تاثرات باعث فخر ہے کہ میرے لیے یہ نہیں کہا گیا کہ میں کسی ہیرا منڈی میں جاتا ہوں یا اپنی راتیں مجروں میں گزاراتا ہوں‘۔

ارباب غلام رحیم نے صوبائی کابینہ میں شامل ایک صوبائی وزیر کا نام لیے بغیر کہا کہ کچھ لوگ اسلام آباد میں بیٹھی ہوئی اپنی بیگمات کی پی آر کے ذریعے سندھ کا وزیر اعلیٰ بننا چاہتے ہیں۔ مگر وزارت اتنی گری ہوئی چیز نہیں ہے جو ان اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے مل جائے۔

واضح رہے کہ سندھ اسمبلی کے ایک سو اڑسٹھ کے ایوان میں متحدہ قومی موومنٹ کو بیالیس نشستیں حاصل ہیں۔ جبکہ قومی اسمبلی میں اس کے اٹھارہ ارکان اسمبلی ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ انیس سو اٹھاسی سے ہر حکومت کا حصہ بنتی آئی ہے مگر ہر حکومت کے ایام مکمل ہونے سے قبل ہی اختلافات کی بنیاد پر اس کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔

ایک روز قبل متحدہ قومی موومنٹ نے اپوزیشن جماعتوں کیساتھ مل کر باجوڑ ایجنسی اور بلوچستان پر بمباری کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد