ایم ایم اے، ایم کیوایم ایک ساتھ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں سیاست نے ایک نئی کروٹ لی ہےاور حریف جماعتیں متحدہ مجلس عمل اور متحدہ قومی موومنٹ مرکزی حکومت کے خلاف ایک ہوگئی ہیں۔ پاکستان کے شمالی علاقے باجوڑ ایجنسی میں امریکی بمباری کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف متحدہ مجلس عمل کے رہنما قاضی حسین احمد نے احتجاج کا اعلان کیا تھا جس کی متحدہ قومی موومنٹ نے حمایت کی تھی۔ دونوں جماعتوں کی جانب سے اتوار کو کراچی اور حیدر آباد میں مشترکہ مظاہرے کیے گئے ہیں۔ ان مظاہروں میں متحدہ مجلس عمل اور متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں کے علاوہ ارکان اسمبلی پروفیسر غفور احمد، انور عالم ، علامہ حسن ترابی، معراج الہدیٰ، عبدالرحمان راجپوت، نعیم اشتیاق، ارشد شاہ اور قاری شیر افضل نے شرکت کی۔ ’گو مشرف گو‘ اور ’لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی‘ جیسے نعرے جو صرف اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سننے کو ملتے ہیں لیکن اس بار حکومت کی حلیف جماعت کے کارکنان کی طرف سے بھی سننے کو ملے۔ گذشتہ ایک ماہ کے دروان کراچی میں حکومت کے خلاف ہونے والا یہ دوسرا بڑا احتجاج ہے۔ اس سے قبل سندھ کی مختلف جماعتوں نے کالا باغ ڈیم کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔ ایم کیو ایم نے جنرل پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے کے بعد پہلی مرتبہ حکومت کے خلاف سٹریٹ پاور کا مظاہرہ کیا ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ہزاروں لوگوں نے احتجاج میں حصہ لیا۔ گرومندر کے علاقے میں تین کلومیٹر تک پھیلے ہوئے مظاہرین میں اکثریت متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں کی تھی۔ یہ احتجاج بظاہر تو باجوڑ ایجنسی میں بمباری کے خلاف تھا مگر مظاہرین نے کالاباغ ڈیم اور بلوچستان میں فوجی آپریشن کے خلاف بھی نعرے لگائے۔ بلدیاتی انتخابات سے قبل ہی ایک دوسرے کے خلاف انگلیاں اٹھانے والے ایم ایم اے اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے اتوار کو ہاتھوں میں ہاتھ دیکر یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔
اس احتجاج کی حمایت کا اعلان رات گئے کیاگیا تھا مگر اس کے باوجود ہزاروں کارکنان نے احتجاج میں شرکت کی ۔ اس سے قبل ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اتوار کو قاضی حسین احمد سے ٹیلیفون پر رابطہ کرکے انہیں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ متحدہ کے اعلامیے کے مطابق الطاف حسین نے کہا کہ سیاسی اور نظریاتی اختلافات کو ایک طرف رکھا جائے کیونکہ یہ ملک کی سلامتی اور خودمختاری کا معاملہ ہے۔ دونوں رہنماؤں نے بلوچستان میں فوجی طاقت کے استعمال اور بےگناہ لوگوں کی ہلاکتوں کی بھی مذمت کی اوراس بات پر بھی اتفاق کا اظہار کیا کہ بلوچستان کا مسئلہ ریاستی طاقت کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ نے بلوچستان میں فوجی آپریشن اور کالا باغ ڈیم کا منصوبہ ترک نہ کرنے کی صورت میں حکومت سے علیحدگی کی دھمکی دی تھی جس کے بعد متحدہ کے مطابق صدر پرویز مشرف نے الطاف حسین کو یقین دہانی کرائی تھی کہ بلوچستان میں آپریشن نہیں کیا جائےگا اور اور بےگناہ لوگوں کے خلاف کوئی کارووائی نہیں ہوگی۔ اسی طرح آبی ذخائر پر صوبوں میں اتفاق نہیں ہوگا ان کی تعمیر نہیں کی جائےگی۔ اس یقین دہانی کے باوجود بلوچ رہنماؤں کے مطابق بلوچستان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں۔ ادھر صدر پرویز مشرف نے صوبہ سرحد کے حالیہ دورہ میں کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر اپنے موقف پر قائم رہنے کا اعادہ کیا ہے۔ خیال رہے کہ جنرل پرویز مشرف اتوار کوکراچی میں ہیں۔ مبصرین اس موقعے پر ایم کیو کے اس احتجاج کو ان کے لیے ایک پیغام قرار دے رہے ہیں۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||