مرکزی حکومت کو متحدہ کی دھمکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مرکز اور صوبہ سندھ میں پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ کی اہم اتحادی جماعت ایم کیو ایم نے بلوچستان میں فوجی آپریشن بند نہ کرنے کی صورت میں حکومت سے علیحدہ ہونے کی دھمکی دے دی ہے۔ متحدہ قومی مومنٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو کراچی اور لندن سیکریٹریٹ میں ہفتے کی شب ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے بیک وقت ہونے والے ایک ہنگامی اجلاس میں کیا گیا۔ اس اجلاس کی صدارت رابطہ کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹر عمران فاروق نے کی۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن فی الفور بند کیا جائے بصورت دیگر ایم کیو ایم چودہ جنوری کو حکومت سے احتجاجاً باہر آجائےگی۔ متحدہ کے اعلامیے کے مطابق اجلاس میں کہا گیا کہ متحدہ قومی مومنٹ کے قائد الطاف حسین اور ڈاکٹر عمران فاروق نے صدر پرویز مشرف، وزیراعظم شوکت عزیز اور اعلیٰ حکومتی شخصیات سے گفتگو میں بارہا اس بات کو سامنے رکھا کہ بلوچستان میں آپریشن کسی کے مفاد میں نہیں ہے مگر اس بات پر توجہ نہیں دی گئی۔ اعلامیہ کے مطابق بلوچستان کی طرح کالاباغ ڈیم کے مسئلے پر بھی حکومت کو یہ باور کرایا گیا کہ صوبہ سندھ، سرحد اور بلوچستان کے عوام کی خواہشات کے خلاف کالاباغ ڈیم بنانے کا فیصلہ نہیں کیا جائے اور اس معاملے پر گول میز کانفرنس طلب کی جائے مگر اس بات پر بھی توجہ نہیں دی گئی۔ واضح رہے کہ متحدہ قومی مومنٹ سندھ میں صوبائی حکومت کا اہم حصہ ہے۔ اس کے پاس ایک سو اڑسٹھ نشستوں کے ایوان میں بیالیس نشستیں ہیں جبکہ قومی اسمبلی میں اس کے اٹھارہ ارکان اسمبلی ہیں۔ ایم کیو ایم دو مرتبہ قبل بھی موجودہ حکومت سے علیحدگی کی دھمکی دے چکی ہے۔ اس سے قبل شائستہ عالمانی کیس میں ملزمان کی گرفتاری اور ماضی میں ہونے والے بلوچستان آپریشن کے خلاف مستعفی ہونے کی دھمکی دی گئی۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||