BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 January, 2006, 14:22 GMT 19:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ، بلوچستان، اپوزیشن واک آؤٹ

سندھ اسمبلی
اراکین اسمبلی احتجاجی نعرے بلند کرتے ہوئے ایوان سے باہر چلے گئے
باجوڑ ایجنسی میں امریکی بمباری اور بلوچستان میں بےگناہ لوگوں کی ہلاکتوں کے خلاف سندھ اسمبلی سے اپوزیشن نے علامتی واک آؤٹ کیا جبکہ حکومت نے امریکی بمباری کے خلاف قرارداد پیش ہونے نہیں دی۔

جمعرات کی صبح مقرر وقت سے ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر سےصوبائی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا۔ پی پی پی کے رکن رفیق انجنیئر نے سپیکر سے گزارش کی کہ باجوڑ ایجنسی اور بلوچستان آپریشن میں ہلاک ہونے والوں کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی جائے۔

اس کے بعد پی پی پی کے پارلیمانی رہنما سیف اللہ دہاریجو نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ’بلوچستان میں غیر اعلانیہ آپریشن کیا جارہا ہے جبکہ باجوڑ میں غیر ملکی بمباری کر رہے ہیں جس پر ہمیں تشویش ہے اور ہم اس کے خلاف واک آؤٹ کرتے ہیں‘۔ اس کے بعد پی پی پی اور ایم ایم اے کے اراکین اسمبلی ’امریکہ کا جو یار ہے، غدار ہے غدار ہے‘ کے نعرے بلند کرتے ہوئے ایوان سے باہر چلے گئے۔

ایم کیو ایم اور ایم ایم اے نے باجوڑ بمباری کے خلاف مشترکہ مظاہرہ کیا تھا

صوبائی وزیر قانون چوہدری افتخار نے پالیسی بیان دیتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ بلوچستان میں آپریشن کے بارے میں غلط بیانی کی جارہی ہے اور اسے ایسے بیان کیا جا رہا ہے جیسے وہاں کوئی جنگ ہو رہی ہے۔

صوبائی وزیر نے بتایا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں بھی بلوچستان میں تخریب کاروں کے خلاف کارروائی کی گئی تھی اور ایسی کارروائیوں میں کچھ واقعات ہو جاتے ہیں۔ چوہدری افتخار کی تقریر کے دوران اپوزیشن ممبران شیم شیم کے نعرے لگاتے رہے جبکہ اپوزیشن ممبر انجنیئر رفیق بلوچ نے جذباتی انداز میں کہا کہ ’بلوچستان کے لوگ اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں‘۔

ایم ایم اے کے رکن اسمبلی حمید اللہ خان نے باجوڑ میں امریکی بمباری کے خلاف آؤٹ آف ٹرن مذمتی قرار داد پیش کرنی چاہی مگر حکومتی بنچ نے اس کی مخالفت کی۔ ایم ایم اے کے ممبران متحدہ قومی موومنٹ کے ممبران کو حمایت کرنے کے لئے کہتے رہے مگر انہوں نےان کا ساتھ نہیں دیا جس پر ایوان ایک مرتبہ پھر ’جو امریکہ کا یار ہے غدار ہے‘ کے نعروں سے گونج اٹھا۔

باجوڑ بمباری اور بلوچستان آپریشن کے خلاف ریلی میں شریک ایک شخص

وزیر قانون نے ایوان کو بتایا کہ حکومت نے اس معاملے کی ہر فورم پر مذمت کی ہے اور وزیرِاعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ وہ اپنے دورۂ امریکہ میں بھی اس معاملے کو اٹھائیں گے اس لیے اس پر قرارداد کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

ایم ایم اے کے حمید اللہ خان کا کہنا تھا کہ باجوڑ میں بیگناہ شہریوں کو شہید کیا گیا ہے مگر حکومت سرکاری سطح پر احتجاج ریکارڈ نہیں کرا سکی ہے۔ اس دوران اپوزیشن کا احتجاج جاری رہا اور سپیکر نے اجلاس جمعہ کے روز تک ملتوی کردیا۔

دریں اثنا سندھ کے وزیرِاعلیٰ ارباب غلام رحیم نے بھاشا ڈیم کے اعلان پر صدر مشرف کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ انہوں نے وفاق اور سندھ کو بچا لیا ہے۔

واضح رہے کہ ایم کیو ایم نے باجوڑ ایجنسی پر بمباری پر ایم ایم اے کے احتجاج کی حمایت کی تھی اور اس احتجاج میں شرکت بھی کی مگر آج اسمبلی میں ایک مرتبہ پھر دونوں کی راہیں الگ ہوگئیں۔

اسی بارے میں
باجوڑ : خالی قبروں کا معمہ
19 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد