بلوچوں کوغیر ملکی مدد حاصل ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے فوجی حکمران جنرل مشرف نے کہا ہے کہ ’ترقی کے مخالف‘ بلوچ سرداروں کو غیر ملکی امداد حاصل ہے۔ قوم سے خطاب کرتے ہوئے جنرل مشرف نے تردید کی کی پاکستان کی فوج بلوچستان میں آپریشن کر رہی ہے۔ انہوں نے کہ فرنٹیر کور کے نیم فوجی دستے اپنے دفاع میں کچھ کارروائیاں کر رہے ہیں۔ جنرل مشرف نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ انہیں پتہ ہے کہ کونسا ملک ’تخریب کاروں‘ کی امداد کر رہا ہے اور وہ اس سے نمٹ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کوہلو میں بچوں اور عورتوں کی مارنے کے الزامات بے بیناد ہیں اور کوئی سپاہی ایسا کام نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا فوج بلوچستان میں کوئی آپریشن نہیں کر رہی ہے اور بلوچستان میں فوج صرف کوئٹہ میں موجود ہے۔ بلوچ قوم پرستوں کو ملنے والی امداد کے بارے میں جنرل مشرف نے کہا کہ ’وہ اپنے لوگوں سے بھی رقم اکٹھی کرتے ہیں اور وہ ہر باروزگار بلوچ سے اس کی آمدن کا ایک فیصد حصہ وصول کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ غریب بلوچوں سے بھی پیسے لیتے ہیں اور ان کو کان کنی کا کاروبار کرنے والے بلوچوں سے بھی رقوم ملتی ہیں لیکن پریشانی کی بات یہ ہے کہ ان کو بیرون ملک سے بھی امداد حاصل ہے۔‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||