BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حدود آرڈینینس کی شکار خواتین
خواتین قید
خواتین قیدیوں کی اکثریت کی پنجاب سے ہے۔
متنازعہ حدود آرڈینینس کے تحت پاکستان کی جیلوں میں دو سو چھیالیس خواتین قید ہیں جن میں اکثریت کا تعلق پنجاب سے ہے۔

پاکستان میں خواتین کے حقوق کے لیئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم عورت فاؤنڈیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب میں ایک سو ستاسی، سندھ میں تریپن اور سرحد میں پانچ خواتین حدود آرڈیننس کے الزامات میں قید ہیں۔بلوچستان میں اس قانون کے تحت کوئی عورت قید نہیں ہے۔

ان قیدی خواتین کی عمریں تیرہ سے ستر سال تک ہیں۔سروے کے مطابق فوجی حکمران جنرل ضیاالحق کے دور حکومت میں نافذ کئے گئے حدود آرڈیننس کے تحت قید خواتین میں اکثریت گھریلو خواتین کی ہے جو قید سے پہلے کھیتی باڑی یا فیکٹری بیوٹی پارلرز میں ملازمت کرتی تھیں۔

ان خواتین کو زنا، بغیر طلاق کے دوسری شادی کرنے، اغوا، جسم فروشی کے الزامات کا سامنا ہے جبکہ کچھ خواتین چوری، ڈاکے اور قتل کے الزامات کے تحت قید کی سزا بھگت رہی ہیں۔

حدود آرڈیننس کے الزام میں قیدیوں کی اکثریت شادی شدہ خواتین کی ہے لیکن اکتیس غیر شادی شدہ بھی اس قانون کا شکار ہوئی ہیں۔

قیدی خواتین میں سے بعض شوہر کی اجازت کے بغیر میکے چلی گئیں تھی اور کچھ نے مارپیٹ سے تنگ آکر شوہر سے خلع کا تقاضہ کیا تھا۔

کچھ خواتین نے زبردستی جنسی تعلقات سے اور کچھ نے بیروزگار شوہر کے کہنے پر جسم فروشی سے انکار کیا تھا۔

کچھ لڑکیوں نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی اور کچھ نے زبردستی کی شادی سے انکارکیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق کچھ خواتین پر ذاتی دشمنی اور زمینی تنازع کی وجہ سے بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

پندرہ خواتین زنا کے بعد حاملہ ہوگئیں جبکہ ایک عورت نے اسقاط حمل کروایا۔
اکسٹھ بچے ماؤں کے ساتھ رہتے ہیں جن کی عمر ایک ماہ سے بیس سال تک ہے۔
حدود آرڈیننس کے تحت قید کاٹنے والی خواتین کی اکثریت نا خواندہ ہے۔

رپوٹ کے مطابق قیدی خواتین میں ایک سو چورانوے ان پڑھ، اٹھائیس پانچ جماعتیں، نو مڈل، گیارہ میٹرک پاس ہیں جبکہ تین انٹر اور ایک گریجویٹ ہے ۔

قیدی خواتین میں سے ایک سو اکتالیس خواتین کو قانونی مدد ملی جن میں سے 109 کی خاندان نے مدد کی۔ پسند سے شادی کرنے والوں کی اکثریت کے سسرال نے مدد کی۔

عورت فاؤنڈیشن کے مطابق پاکستان میں کل اکاسی جیلیں ہیں جن میں سے خواتین کے لیے مخصوص جیلوں کی تعداد صرف پانچ ہے۔

ملک میں خواتین کی سب سے زیادہ جیلیں سندھ میں ہیں جبکہ سرحد میں خواتین کی ایک جیل بھی نہیں ہے۔

اسی بارے میں
حدود قوانین پر فیصلہ مؤخر
28 March, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد