BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 March, 2006, 12:58 GMT 17:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حدود قوانین کی نظرثانی پر اجلاس

پاکستان میں حدود ارڈیننس ک خلاف خواتین احتجاج کرتی رہی ہیں
پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل نے ستائیس برس بعد ملک میں رائج اپنے ہی مرتب کردہ متنازعہ حدود قوانین کو قرآن اور سنت کے عین مطابق نہ پائے جانے کے بعد پیر سے ان پر نظر ثانی کے لیے اجلاس شروع کر دیا ہے۔

کونسل منگل کے روز ان قوانین کو منسوخ کرنے یا ان میں ترامیم کرنے سے متعلق سفارشات کو حتمی شکل دے گی۔

حدود قوانین کو ملک بھر کی خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیئے کام کرنے والی سرکاری و غیر سرکاری تنظیمیں پہلے ہی امتیازی اور خلاف خواتین قرار دے کر ان کی تنسیخ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

نظریاتی کونسل کے سیکریٹری ریاض الرحمن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ نظریاتی کونسل ان قوانین پر نظر ثانی کر رہی ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے آئین کے تحت قوانین کو اسلامی تعلیمات کے تحت جانچنے کا ذمہ دار آئینی ادارہ ہے۔

تاہم پیر کے اجلاس کے بعد کونسل کے چیئرمین خالد مسعود اور دیگر اراکین نے اجلاس کی تفصیلات بتانے سے احتراز کیا اور کہا کہ کونسل کی سفارشات کل جاری کی جائیں گی۔

اجلاس میں حدود قوانین کے بارے میں کونسل کی ایک اپنی تجزیاتی رپورٹ پیش کی گئی جس کی روشنی میں ان قوانین پر نظر ثانی کی جائے گی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حدود قوانین کا ماخذ قران اور حدیث نہیں ہیں۔

کونسل کے مطابق ان قوانین میں جزوی ترامیم سے ان قوانین کی بنیادی روح تبدیل نہیں ہو گی لہذا ان پر اس طرح نظر ثانی کی جائے گی تاکہ ان قوانین کے تحت جرائم کی نفسیات اور سزاؤں کو قرآن اور سنت کے علاوہ جدید عدالتی نظام میں بھی کار آمد بنایا جا سکے۔

حدود قوانین کو سن انیس سو اناسی میں اس وقت کے فوجی حکمران جنرل ضیاالحق نے ایک آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا تھا اور انیس سو پچاسی میں اس وقت کی پارلیمان نے منظور کر کے آئین کا حصہ بنا دیا تھا۔ ان قوانین کو اس وقت کی اسلامی نظریاتی کونسل نے مرتب کیا تھا۔

حدود قوانین کے تحت چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا، زنا کی سزا سو کوڑے اور سنگسار تاوقت موت، جنسی زیادتی کے الزام کو ثابت کرنے کے لیئے چار مردوں کی لازمی گواہی، شراب نوشی کی کڑی سزا سمیت کئی شقیں شامل کی گئی تھیں۔ آئینی ماہرین کے مطابق حدود قوانین نے پاکستان میں رائج قوانین کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔

کونسل نے پیر کے اجلاس میں پیش کی گئی رپورٹ میں کہا ہے کہ حدود قوانین کی وجہ سے جرائم میں کمی نہیں آئی اور نہ ہی زنا، شراب نوشی یا چوری کے واقعات کو کم کرنے میں کوئی مدد ملی ہے۔کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں حدود قوانین کے تحت تین لاکھ سے زائد کیس رجسٹر ہوئے۔

پاکستان میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیئے کام کرنے والی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق ان قوانین کے تحت ہزاروں خواتین جن کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا وہ جیلوں میں برسوں سے صرف اس لیئے قید ہیں کہ وہ اپنے خلاف جنسی زیادتی کو ثابت کرنے کے لیئے چار مرد گواہ پیش نہیں کر سکیں جس کے بعد ان کو زیادتی کرنے والے فرد کے خلاف جھوٹا الزام لگانے کی پاداش میں جیل میں ڈال دیا گیا۔کونسل اس بات پر بھی غور کر رہی ہے کہ زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون کی گواہی کو کافی سمجھتے ہوئے اس پر قانونی کاروائی کی جا سکے۔

پاکستان کی پارلیمان میں حدود قوانین کو ختم کرنے کے بارے میں پہلے ہی بل بحث کے لیئے منظور ہو چکے ہیں۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے مطابق پاکستانی معاشرہ اور ذرائع ابلاغ حدود قوانین کے مسئلے پر تین گروپوں میں بٹا ہوا ہے جن میں سے ایک ان قوانین کو رائج کرنے کے حق میں، دوسرا ان کی تنسیخ اور تیسرا گروپ ان قوانین میں ترامیم کی بات کرتا ہے۔

پاکستان کی زیادہ تر حکومتی و حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں ان قوانین کو ختم کرنے کے حق میں ہیں مگر دینی جماعتیں اور حلقے ان قوانین کو قرآن اور سنت کے عین مطابق قرار دیتے ہوئے ان قوانین کے خاتمے کے خلاف ہیں۔ یہ خلیج پاکستان کی پارلیمان سے ملک کے گلی محلوں تک پھیلی ہوئی ہے۔

حدود آرڈیننس کے متنازعہ معاملہ پر بحث تین برس قبل قومی کمیشن برائے وقار نسواں کے قیام کے بعد سے بہت زور پکڑ گئی تھی ۔اس وقت کے کمیشن کی سربراہ جسٹس (ر) ماجدہ رضوی نے کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والی رپورٹ میں اعلان کیا تھا کہ حدود آرڈیننس اور اس کے عورتوں کے لیے مضمرات پر کمیشن کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی کے سترہ میں سے پندرہ ارکان نے ان قوانین کو مسترد کردیا ہے کیونکہ ان کی نظر میں وہ غیر اسلامی ہیں۔

کمیٹی نے حکومت سے سفارش کی تھی کہ ان قوانین کو منسوخ کیا جائے۔ وقار نسواں کمیشن کی نئی سربراہ عارفہ سیدہ زہرہ نے بھی اپنی پیشرو کی پیروی کرتے ہوئے ان قوانین کی تنسیخ کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد