BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 November, 2005, 11:08 GMT 16:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حدود قوانین میں ترمیم ہو گی‘

عورتیں حدود قوانین کوامتیازی قانون سمجھتی ہیں۔
پاکستان حکومت خواتین کے بارے میں متنازعہ قانون حدود آرڈیننس میں ترمیم کے لیے راضی ہوگئی ہے۔

پاکستان حکومت کی مشیر نیلوفر بختیار کے مطابق حددود قوانین میں ترمیم کا بل جلد اسمبلی میں پیش ہو گا۔

وزیر اعظم کی مشیر نیلوفر بختیار نے خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے حوالے سے نکالی گئی ایک ریلی سےخطاب کرتے ہوئے خواتین کو بتایا کہ حکومت جلد حدود آرڈیننس میں ترمیم کا بل اسمبلی میں پیش کریگی۔

نیلوفر بختیار نے اپوزیشن جماعت کی خواتین سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے ایشوز پر ہمیں پارٹی وابستگی سے بالاتر ہوکر سوچنا چاہیے۔ کیونکہ یہ عورتوں کا مسئلہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بل لانے سے پہلے ماحول کو سازگار بنانا ہوتا ہے۔ جو ہم کر رہے ہیں۔ ہر قانون کی مخالفت ہوتی ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اس کو چھوڑ دیں۔

نیلوفر کے مطابق ہم ملک میں مزید دس شیلٹر قائم کر رہے ہیں جہاں خواتین کو پناہ مل سکے گی۔

اس سے قبل سندھ سیکریٹریٹ سے وومین ڈویلپمنٹ کی جانب سے ریلی نکالی گئی۔ جس میں حقوق نسواں کی تنظیموں کے علاوہ حکمران اور اپوزیشن جماعتوں کی ممبر صوبائی اسمبلی بھی شریک تھیں جنہوں نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

خواتین کے حقوق کے بارے حکومت کی جانب سے بنائے گئے کمیشن کی سربراہ جسٹس ماجدہ رضوی نے بھی حدود آرڈیننس میں ترمیم کی تجویز پیش کی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد