BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 December, 2003, 13:16 GMT 18:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حدود قوانین: پشاور میں احتجاج

سرحد اسمبلی کے باہر احتجاج
حدود آرڈیننس کو انسانی حقوق کی تنظیمیں عورتوں کے ساتھ امتیازی قرار دیتی ہیں

پاکستان میں متنازعہ حدود آرڈیننس کے خلاف حقوق انسانی کے لئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے کارکنوں نے احتجاج کیا ہے۔

صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں یہ احتجاجی مظاہرہ صوبائی اسمبلی کے سامنے منعقد کیا گیا جہاں گزشتہ دنوں اس قانون میں ترمیم کے خلاف ایک قرارداد منظور کی گئی تھی۔ تاہم دوسری جانب ایم ایم اے کے سربراہ مولانا شاہ احمد نورانی کی وفات کی وجہ سے سرحد اسمبلی کااجلاس سوموار تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔

چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی اکثریت والی سرحد اسمبلی نے گزشتہ دنوں ایک قراداد منظور کی تھی جس میں متنازعہ حدود آرڈنینس میں کسی قسم کی تبدیلی کی مخالفت کی گئی تھی۔ یہ قرارداد ایم ایم اے کی ایک خاتون رکن کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔

صوبائی اسمبلی کی اس قراداد کو غیرذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے جمعہ کے روز صوبہ میں خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی کئی غیرسرکاری تنظیموں کے پچاس کے قریب کارکنوں نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے زیراہتمام اسمبلی کی اس قراداد کی مخالفت میں مظاہرہ کیا۔ مظاہرین حدود آرڈینس میں ترامیم کا مطالبہ بھی کر رہے تھے۔

اس موقعہ پر عورت فاؤنڈیشن کی صوبائی سربراہ رخشندہ ناز نے احتجاج کی وجہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتاتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کی قرار داد ان کے لئے باعث تشویش تھی کیونکہ وہ اس قانون کے خلاف گزشتہ تیس برسوں سے جدوجہد کر رہے ہیں۔

مظاہرین نے سیاہ جھنڈے اور بینرز اٹھا رکھے تھے
مظاہرین نے سیاہ جھنڈے اور بینرز اٹھا رکھے تھے

انہوں نے اس قرار داد کی منظوری کے وقت حزب اختلاف کی خاموشی پر حیرت کا اظہار بھی کیا۔ البتہ اس موقعہ پر حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی پیپلز پارٹی شیرپاؤ اور پارلیمنٹیرین کے چند اراکین اسمبلی نے بھی باہر آ کر مظاہرین کو اپنے تعاون کا یقین دلایا۔

مظاہرین نے سیاہ جھنڈے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر اس آرڈنینس کے ذریعے خواتین کے استحصال کو ختم کرنے اور اس قانون کے خاتمے کے نعرے درج تھے۔

پاکستان کے سابق فوجی حکمراں جنرل ضیاالحق کے دور میں نافذ کئے گئے اس قانون کو انسانی حقوق کی تنظیمیں عورتوں کے ساتھ امتیازی قرار دیتی ہیں البتہ مذہبی جماعتیں اس کے حق میں ہیں۔

وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ دنوں اس قانون پر نظرثانی کے لئے قائم کئے گئے ایک کمیشن نے بھی اس میں ترامیم کی سفارش کی جس سے یہ تنازعہ ایک مرتبہ پھر اٹھ کھڑا ہوا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد