BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 February, 2006, 14:43 GMT 19:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حدود قوانین کی تنسیخ کا بل پیش

قومی اسمبلی
سپیکر نے مجوزہ بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا
پاکستان کی قومی اسمبلی میں منگل کو حزب اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے زنا، چوری، قذف اور شراب نوشی کے متعلق حدود یعنی اسلامی قوانین ختم کرنے کا بل پیش کیا جس کی حکومت نے مخالفت نہیں کی اور سپیکر نے مجوزہ بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے نجی کارروائی کے دن پیش کردہ اس بل کی حکومت کی جانب سے مخالفت نہ کرنا اور بحث کرانے پر غیر متوقع طور پر رضامندی ظاہر کرنے سے بظاہر لگتا ہے کہ وہ حدود قوانین کے خاتمے پر رضامند ہوگئے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے شیری رحمٰن، اعتزاز احسن اور نوید قمر سمیت ان کی جماعت کے بارہ اراکین اسمبلی نے حدود قوانین کی تنسیخ کا یہ بل پیش کیا۔

حکومت کے مخالفت نہ کرنے بعد سپیکر نے آواز کے ذریعے ووٹنگ کرائی اور بل مزید کارروائی کے لیے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔

جس پر مذہبی جماعتوں کی اتحاد متحدہ مجلس عمل نے احتجاج کیا اور مسلم لیگ نواز نے بھی ان کا ساتھ دیا۔

دونوں فریقین نے مطالبہ کیا کہ دوبارہ ووٹنگ کرائی جائے اور سپیکر نے جب ایسا نہیں کیا تو انہوں نے علامتی طور پر واک آؤٹ کیا۔

سابق وزیر قانون اور رکن اسمبلی اعتزاز احسن نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے مجوزہ بل میں زنا، چوری، شراب نوشی اور قذف کے متعلق حدود قوانین کو منسوخ کرنے کی تجاویز پیش کی ہیں۔

ان کے مطابق حدود کے ان چاروں قوانین میں سزائے موت، عمر قید، کوڑے مارنے، ہاتھ کاٹنے اور سنگساری سے ہلاک کرنے جیسی سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔

یہ اسلامی قوانین سابق فوجی حکمران ضیاء الحق نے متعارف کرائے تھے۔ زنا سے متعلق نافذ شدہ قانون کے مطابق جنسی تشدد کا نشانہ بننے والی خاتون پر لازم ہے کہ وہ چار نیک نام مسلمان گواہ پیش کرے بصورت دیگر متاثرہ خاتون کو سزا دی جاسکتی ہے۔

 اسلامی قوانین سابق فوجی حکمران ضیاء الحق نے متعارف کرائے تھے۔ زنا سے متعلق نافذ شدہ قانون کے مطابق جنسی تشدد کا نشانہ بننے والی خاتون پر لازم ہے کہ وہ چار نیک نام مسلمان گواہ پیش کرے بصورت دیگر متاثرہ خاتون کو سزا دی جاسکتی ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے قوانین کی وجہ سے کوئی بھی متاثرہ خاتون اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی ثابت کرنے میں ناکام رہتی ہے اور نتیجے میں ملزمان کو سزا نہیں ہوتی۔

1979 میں نافذ کردہ یہ قوانین ابتدا سے ہی متنازعہ رہے ہیں۔ انسانی حقوق
باالخصوص خواتین کے حقوق سے متعلق تنظیمیں اور کئی غیر مذہبی سیاسی جماعتیں ان قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔

ماضی میں بھی اس طرح کے بل حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے اراکین پیش کرتے رہے لیکن حکومت یہ کہہ کر مخالفت کرتی رہی کہ وہ خود اس بارے میں بل لانا چاہتی ہے۔

فی الوقت یہ بل بحث کے لیے پیش کرنے کی حکومت نے اجازت دی ہے اور اس کی باضابطہ منظوری ابھی باقی ہے۔

لیکن اس کے باوجود بھی کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ایسے قوانین کے خاتمے کے بارے میں بحث کرانے پر حکومتی رضامندی بھی ایک بڑا قدم ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر حدود قوانین منسوخ کرنے کا یہ بل منظور ہوگیا تو یہ اس حکومت، سیکولر سوچ رکھنے والی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی بڑی جیت اور ملک کی مذہبی جماعتوں کے لیے ایک دھچکا ثابت ہوگا۔

اسی بارے میں
سندھ حکومت میں اختلافات
16 January, 2006 | پاکستان
اپوزیشن کا وفد روک لیا گیا
23 January, 2006 | پاکستان
اپوزیشن کا کچھ نکات پر اتفاق
02 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد