BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 November, 2003, 09:52 GMT 14:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
والدین بچوں کے گھر نہ اجاڑیں، عدالت عالیہ

پاکستان میں خواتین
پاکستان میں خواتین سے متعلق اکثر قوانین متنازعہ رہے ہیں۔

لاہور کی عدالت عالیہ نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بچوں کی پسند کی شادی قبول کرلیں اور خواتین کے خلاف زیادتیوں کے انسداد کے لیے بنائے جانے والے قانون حدود آرڈیننس کو گھر اجاڑنے کا ہتھیار بنانے سے باز رہیں اور اپنے ہی بچوں کے گھر اجاڑیں نہ ہی اپنی ہی بیٹیوں کو بدنام کریں۔

عدالت نے یہ مشورہ حدود آرڈیننس کے دو علیحدہ مقدمات کا فیصلہ سناتے ہوئے دیا۔

پنجاب کے ایک شہر منڈی بہاءالدین کے نواحی گاؤں کوٹلی شیخاں کے رہائشی غلام عباس نے ایک شخص پرویز اقبال کے خلاف اپنی بیٹی عظمٰی پروین کے اغوا کا الزام عائد کیا تھا اور مقامی تھانے میں اس کے خلاف حدود آرڈیننس کے تحت مقدمہ درج کرایا تھا۔

اسی طرح کا ایک اور مقدمہ سعدیہ نامی ایک لڑکی اور اس کے شوہر کے خلاف درج تھا۔

ان دونوں مقدمات میں ملوث دونوں جوڑوں نے مقدمے کے خاتمے کے لیے لاہور کی عدالت عالیہ سے رجوع کیا تھا۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے اس لیے ان کے خلاف درج حدود کے مقدمات ختم کیے جائیں۔

عدالت نے سماعت کے بعد حدود کے دونوں مقدمات خارج کر کے پسند کی شادیوں کو قانونی قرار دیا اور دونوں خواتین کو ان کے شوہروں کے ساتھ جانے کی اجازت دی۔

عدالت نے کہا کہ مرضی سے شادی کرنے والوں کے خلاف زنا حدود آرڈیننس کے تحت مقدمہ درج کرانا والدین کی طرف سے اپنے بچوں کی زندگیاں تباہ کرنے کے مترادف ہے۔

عدالت نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ پسند کی شادی کو تسلیم کرلیں اور مقدمات کے اندراج کے ذریعے اپنی اولاد کو ذلیل و رسوا نہ کریں۔

عدالت نے کہاکہ حدود کے مقدمات میاں بیوی کے مقدس رشتوں کو توڑنے کا سبب بنتے ہیں اس لیے ان مقدمات کو برقرار رکھنا آئین اور قانون کے منافی اور پولیس کو ناجائز اختیارات دینے کے مترادف ہے۔

عدالت نے کہا کہ عدالتیں معاشرے کی رسوم و رواج کے تحت فیصلے نہیں کرتیں بلکہ آئین و قانون کے تحت فیصلے کرنے کی پابند ہیں۔

’اگر رسم و رواج پسند کی شادی کرنے کی اجازت نہیں دیتے تو عدالت ان رسم و رواج پر عملدرآمد کی پابند نہیں ہےکیونکہ پاکستان کا آئین و قانون پسند کی شادی کی اجازت دیتا ہے۔‘

عدالت نے کہا کہ اپنے ہی داماد کے خلاف اپنی ہی بیٹی سے زیادتی کا مقدمہ درج کرانا اخلاقیات کے خلاف ہے۔

’والدین کو تو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی مرضی کو قبول کرلیں لیکن وہ پولیس کی مدد سے اپنے ہی بچوں کے گھروں کو اجاڑنے پر تُل جاتے ہیں اور اپنی ہی بچیوں کو بدنام کرکے ان کی زندگیاں تباہ کر دیتے ہیں۔‘

قانونی ماہرین کے مطابق پاکستان میں والدین کی مرضی کے خلاف شادی کی مخالفت کی جاتی ہے اور صرف پنجاب میں ہی گھر سے بھاگ کر شادی کرنے والے جوڑوں کے خلاف ہرسال حدود آرڈیننس کے تحت سینکڑوں مقدمات درج کیے جاتے ہیں۔

اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرنے والے جوڑوں کے خلاف درج متعدد مقدمات گزشتہ چند برسوں کے دوران خارج کیے گئے ہیں اور پسند کی شادیوں کو قانونی قرار دیا گیا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد