حدود قوانین پر فیصلہ مؤخر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ اس برس جون تک ملک میں رائج حدود قوانین کے متنازعہ نکات کی نشاندہی کرکے اپنی سفارشات وزارت قانون کو بھجوا دے گی۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے پیر سے حدود قوانین پر نظر ثانی کا عمل شروع کیا تھا جس کے بعد منگل کو کونسل نے حدود قوانین کی متنازعہ شقوں کی نشاندہی کرنے کے لیئے ایک قانونی کمیٹی تشکیل دی ہے جو اس برس جون تک ان نکات کے بارے میں اپنی سفارشات کو حتمی شکل دے کر اس کو پاکستان کی پارلیمان کو بھجوا دے گی۔ کونسل کے اجلاس میں حدود قوانین کی تنسیخ کے بارے میں کونسل کے ممبران میں اتفاق رائے نہ ہو سکا۔ حدود قوانین کو ملک بھر کی خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیئے کام کرنے والی سرکاری و غیر سرکاری تنظیمیں پہلے ہی امتیازی اور خلاف خواتین قرار دے کر ان کی تنسیخ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ اجلاس میں حدود قوانین کے بارے میں کونسل کی ایک اپنی تجزیاتی رپورٹ پیش کی گئی جس کی روشنی میں ان قوانین پر نظر ثانی کی جائے گی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حدود قوانین کا ماخذ قرآن اور حدیث نہیں ہیں۔ حدود قوانین کو 1979 میں اس وقت کے فوجی حکمران جنرل ضیاالحق نے ایک آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا تھا اور انیس سو پچاسی میں اس وقت کی پارلیمان نے منظور کر کے آئین کا حصہ بنا دیا تھا۔ ان قوانین کو اس وقت کی اسلامی نظریاتی کونسل نے مرتب کیا تھا۔ حدود قوانین کے تحت چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا، زنا کی سزا سو کوڑے اور سنگسار تاوقت موت، جنسی زیادتی کے الزام کو ثابت کرنے کے لئیے چار مردوں کی لازمی گواہی، شراب نوشی کی کڑی سزا سمیت کئی شقیں شامل کی گئی تھیں۔ آئینی ماہرین کے مطابق حدود قوانین نے پاکستان میں رائج قوانین کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ کونسل نے پیر کے اجلاس میں پیش کی گئی رپورٹ میں کہا ہے کہ حدود قوانین کی وجہ سے جرائم میں کمی نہیں آئی اور نہ ہی زنا، شراب نوشی یا چوری کے واقعات کو کم کرنے میں کوئی مدد ملی ہے۔ کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ چند برسوں میں حدود قوانین کے تحت تین لاکھ سے زائد کیس رجسٹر ہوئے۔ پاکستان میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیئے کام کرنے والی تنظیم ’ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان‘ کے مطابق ان قوانین کے تحت ہزاروں خواتین جن کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا وہ جیلوں میں برسوں سے صرف اس لئیے قید ہیں کہ وہ اپنے خلاف جنسی زیادتی کو ثابت کرنے کے لئیے چار مرد گواہ پیش نہیں کر سکیں جس کے بعد ان کو زیادتی کرنے والے فرد کے خلاف جھوٹا الزام لگانے کی پاداش میں جیل میں ڈال دیا گیا۔ کونسل اس بات پر بھی غور کر رہی ہے کہ زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون کی گواہی کو کافی سمجھتے ہوئے اس پر قانونی کارروائی کی جا سکے۔ پاکستان کی پارلیمان میں حدود قوانین کو ختم کرنے کے بارے میں پہلے ہی بل بحث کے لئیے منظور ہو چکے ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے مطابق پاکستانی معاشرہ اور ذرائع ابلاغ حدود قوانین کے مسئلے پر تین گروپوں میں بٹا ہوا ہے جن میں سے ایک ان قوانین کو رائج کرنے کے حق میں، دوسرا ان کی تنسیخ اور تیسرا گروپ ان قوانین میں ترامیم کی بات کرتا ہے۔ پاکستان کی زیادہ تر حکومتی و حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں ان قوانین کو ختم کرنے کے حق میں ہیں مگر دینی جماعتیں اور حلقے ان قوانین کو قرآن اور سنت کے عین مطابق قرار دیتے ہوئے ان قوانین کے خاتمے کے خلاف ہیں۔ یہ خلیج پاکستان کی پارلیمان سے ملک کے گلی محلوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ حدود آرڈیننس کے متنازعہ معاملہ پر بحث تین برس قبل قومی کمیشن برائے وقار نسواں کے قیام کے بعد سے بہت زور پکڑ گئی تھی ۔اس وقت کے کمیشن کی سربراہ جسٹس (ر) ماجدہ رضوی نے کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والی رپورٹ میں اعلان کیا تھا کہ حدود آرڈیننس اور اس کے عورتوں کے لیئے مضمرات پر کمیشن کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی کے سترہ میں سے پندرہ ارکان نے ان قوانین کو مسترد کردیا ہے کیونکہ ان کی نظر میں وہ غیر اسلامی ہیں۔ وقار نسواں کمیشن کی نئی سربراہ عارفہ سیدہ زہرہ نے بھی اپنی پیشرو کی پیروی کرتے ہوئے ان قوانین کی تنسیخ کا مطالبہ کیا ہے۔ | اسی بارے میں حدود قوانین کی نظرثانی پر اجلاس 27 March, 2006 | پاکستان حدود قانون ترمیم، حکومتی مخالفت06 December, 2005 | پاکستان والدین بچوں کے گھر نہ اجاڑیں، عدالت عالیہ11 November, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||