حدود قانون ترمیم، حکومتی مخالفت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں جنسی تشدد کے معاملات میں خواتین کوگواہی کا حق دینے کے بارے میں حدود آرڈیننس میں ترمیم کے متعلق بل کی حکومت نے مخالفت کردی اور بل پیش کرنے کی تحریک مسترد کردی گئی۔ یہ تحریک حکومتی اتحاد میں شامل جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے رکن کنور خالد یونس نے پیش کی تو پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیر افگن نیازی نے اس کی مخالفت کی۔ ڈپٹی سپیکر سردار محمد یعقوب نے ’وائس ووٹنگ‘ کرائی اور تحریک مسترد کرنے کے لیے حزب مخالف کے مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے بھی حکومت کا ساتھ دیا۔ بل مسترد ہونے کے بعد مجلس عمل کے اراکین نے زوردار انداز میں ڈیسک بجائے۔ پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیر افگن نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسلامی قانون سابق صدر جنرل ضیاءالحق کے دور میں نافذ ہوا تھا اور آٹھویں آئینی ترمیم کے ذریعے اس قانون کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔ کنور خالد یونس نے کہا کہ ان کے اس ترمیمی بل کا مقصد مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی گواہی کا حق دینا ہے اور حکومت اس کی مخالفت نہ کرے۔ بعد میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کنور خالد یونس نے کہا کہ اصل میں حکومت اور حزب اختلاف میں بیشتر لوگ ضیاءالحق کے زمانے والے ہیں اس لیے انہوں نے بل کی مخالفت کردی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دنیا کے ستاون اسلامی ممالک میں سے زنا کے متعلق اسلامی قوانین صرف سعودی عرب اور پاکستان میں نافذ ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے رکن نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف تو روشن خیالی کی بات کرتے ہیں لیکن انہیں لگتا ہے کہ بیشتر حکومتی اراکین ایسا نہیں چاہتے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اب وہ حدود آرڈیننس کی تنسیخ کا بل پیش کریں گے۔ | اسی بارے میں ’حدود قوانین میں ترمیم ہو گی‘25 November, 2005 | پاکستان غیرت: قانون میں تبدیلی ضروری24 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||