غیرت: قانون میں تبدیلی ضروری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں موثر قانون نے ہونے کے وجہ سے بھی عورتوں کے غیرت کے نام پر قتل کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ کراچی میں برٹش کونسل کی جانب سے نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کے عنوان سے ہونے والی تین روز کانفرنس میں پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل اور اس کے اسباب پر روشی ڈالی گئی۔یہ کانفرنس خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن سے ایک دن قبل منعقد کی گئی ہے۔ عورت فاونڈیشن کے مطابق گزشتہ دس ماہ میں صرف صوبے سندھ میں تین سو خواتین اور ساٹھ مرد غیرت کے نام پر قتل کیے گئے ہیں۔جبکہ پچہتر کے قریب عورتوں کو ریپ کیا گیا ہے۔ اس عرصے میں ایک سو پینسٹھ خواتین کو گھر چھوڑنا پڑا ہے۔ سندھ کی صوبائی وزیر حمیدہ کھوڑو نے کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے قوانین ایک طرف پیچیدہ ہیں تو دوسری جانب کوئی ایک قانون نہیں ہے۔ یہاں پر اسلامی قوانین بھی ہیں۔ حدود لا بھی ہے تو مارشل بھی ہے۔ اس وجہ سے ملزم کو سزا نہیں ملتی۔ حمیدہ کھوڑو کے مطابق ہمیں ایک واضح قانون کی ضرورت ہے جس پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے۔ حمیدہ کھوڑو کا جو برٹش کونسل کے غیرت کے نام پر قتل کے خلاف آگاہی کی مہم کی چیرپرسن بھی ہیں، کہنا تھا کہ گزشتہ دو تین دہائیوں سے اس رجحان میں تیزی آئی ہے۔ جس کی وجہ ثقافتی اور تہذیبی گراوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس انسانی ترقی کے وسائل نہیں ہیں۔ تعلیم کی کمی اور ملازمتوں کی عدم دستیابی ہے جبکہ گزشتہ ایک دہائی سے غربت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ جو احساس محرومی کو جنم دیتا ہے جس کا شکار عورت بنتی ہے۔ پروفیسر حمیدہ کھوڑو کے مطابق اس خطے میں چودہ سو سال گذرنے کے باوجود اسلام کے روح پر عملدرآمد نہیں کیا گیا یہاں ابھی بھی جاگیردارانہ اور سرداری نظام رائج ہے۔ پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیم کی رہنما اور ڈائریکٹر لیگل ایڈ سیل ایڈووکیٹ حنا جیلانی کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں تجارت اور ٹرانسپورٹ سمیت ہر چیز تبدیل ہوئی ہے۔مگر خواتین کے بارے میں خیالات تبدیل نہیں کئے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ کی ایڈووکیٹ حنا جیلانی کا کہنا تھا کہ پاکستان پینل کوڈ میں کچھ ایسی دفاعت ہیں جس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل قابل قبول ہے۔اسی طرح جب قصاص اور دیت آرڈیننس متعارف کروایا گیا تو اس کے بھی اثرات ہوئے۔ اس قانون میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی قتل کو ریاست کے خلاف جرم تصور نہیں کیا جائیگا۔ یہ عمل ایک آدمی کا دوسرے آدمی کے خلاف جرم ہو گا۔ انہوں نے لاہور ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالے دیا۔ جس میں عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ مسمات بشیراں ایک دیہاتی عورت تھی۔ جس کی جب لاش ملی تو اس کو میک اپ کیا ہوا تھا اور نائیلون کا انڈر ویئر پہنا ہواتھا جو دیہات میں استعمال نہیں کیا جاتا اس لیے شوہر نے اس کو غیرت میں قتل کردیا۔ حنا جیلانی کے مطابق قانون میں کی گئی حالیہ ترامیم ناکافی ہیں۔ عدلیہ انصاف کے حصول کے لئے مدگار ثابت ہوسکتی ہے۔ مگر عدلیہ خواتین کے تحفظ اور ان کے حقوق کے حصول میں ناکام رہی ہے۔ انگلینڈ کی لیور پول کی ڈسٹرکٹ جج مارلن مارنگٹن کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں بھی خواتین کے خلاف تشدد کی تمام اقسام موجود ہیں۔ جبکہ زبردستی کی شادی اہم ہے۔ صرف گزشتہ ایک سال میں زبردستی کی شادی کے ایک ہزار واقعات ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زبردستی کی شادی صرف مسلم کمیونٹی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ساؤتھ ایشیا، مڈل ایسٹ اور افریقی وگوں کا بھی ہے۔ انہوں نے بھی موثر قانون سازی پر زور دیا اور کہا کہ قانون سازی رویوں میں تبدیلی لاسکتی ہے۔ کانفرنس کے میزبان برٹش کونسل کے ڈائریکٹر کراچی مارکس گلبرٹ نے بتایا کہ ہماری مہم کا مقصد عوام میں شعور لانا۔ پولیس اور عدلیہ کی حوصلہ افزائی ہے۔ جبکہ قانون میں ترمیم کے لیے بھی تجاویز دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدمات اور قانون سازی کی ضرورت ہے۔ یہ کانفرنس تین روز جاری رہیگی۔ جس میں اردن، بنگلہ دیش ، ترکی کے مندوب بھی کررہے ہیں۔ | اسی بارے میں ’غیرت کے نام پر‘ ایک اور قتل08 September, 2005 | پاکستان غیرت کے نام پر پانچ افراد قتل15 August, 2005 | پاکستان ’غیرت‘ کے نام ایک اور قتل 01 August, 2005 | پاکستان حقوقِ نسواں: ماں بیٹی ہلاک 07 July, 2005 | پاکستان پسند کی شادی: میاں بیوی قتل18 May, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||