’غیرت کے نام پر‘ ایک اور قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی پنجاب کے ضلع وہاڑی کے ایک گاؤں میں ایک سترہ سالہ لڑکی کو اس کے بھائی نے مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کردیا ہے۔ مقتولہ اپنی پسند کے لڑکے سے شادی کرنا چاہتی تھی جبکہ والدین نے اس کا نکاح کسی اور شخص سے کر دیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق کوٹ غلام قادر کی رہائشی کوثر قریبی کمیرا کے ندیم بھٹی سےشادی کرنا چاہتی تھی لیکن اس کے گھر والوں نے یکم ستمبر کو مبینہ طور پر زبردستی اس کا نکاح محمد شعبان سے کر دیا۔ ’نکاح‘ کے اگلے روز ہی کوثر نے والدین کا گھر چھوڑ دیا اور مبینہ طور پر ندیم کے ساتھ چلی گئی ہو گئی۔ اس پر کوثر کے ایک بھائی نیاز احمد نے تھانہ لڈن میں ندیم کے خلاف اغواء کا مقدمہ درج کرادیا۔ بعد میں چھ ستمبر کو ایک پنچایت کے ذریعے کوثر کو یہ کہہ کر والدین کے گھر واپس آنے پر راضی کیا گیا کہ اس کی شادی اس کی مرضی کے مطابق کر دی جائے گی۔ تاہم بعد میں اس کے والد علی محمد نے پولیس کو اطلاع دی کہ اس کے بیٹے مشتاق نے’غیرت‘ کے جوش میں کوثر کو گلا دبا کر قتل کردیا ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم مشتاق کو گرفتار کرلیا ہے۔ تاہم پولیس نے اس پنچایت کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جس کی ضمانت پر کوثر اپنے والدین کے گھر آنے کو تیار ہوئی تھی۔ جمعرات کے روز وہاڑی کے ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں مقتولہ کا پوسٹ مارٹم کیا گیا جس کے بعد اس کی تدفین کردی گئی۔ پاکستان انسانی حقوق کمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق رواں سال دو ہزار پانچ کے پہلے چھ ماہ کے دوران جنوبی پنجاب میں چالیس خواتین اور چھبیس مردوں کو غیرت کے نام پر قتل کیا جا چکا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||