BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 18 July, 2005, 14:47 GMT 19:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ریپ پر جرگے کا ایک اور فیصلہ

News image
جرگہ کے فیصلے سے روگردانی بہت مشکل ہے
جنوبی پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل خان پور میں کاروکاری کے حوالے سے جرگے کا ایک ایسا فیصلہ سامنے آیا ہے جس کی رو سے مبینہ غلطی کرنے والے فریق کو اسلحہ کے زور پر علاقہ بدر کیا گیا ۔
علاقہ بدر کئے جانے والے خاندان نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سےمدد کی درخواست کی لیکن تقریباً بیس روز گزرنے کے باوجود کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق سندھ سے آئے ہوئے خانہ بدوش گدڑی قبیلے نے خان پور میں رہائش پذیر اپنے شادی شدہ رشتہ دار ندیم پر الزام لگایا کہ اس نے ان کی انیس سالہ لڑکی ثمینہ سے جنسی زیادتی کی ہے۔ خان پور سٹی پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔

تاہم تین روز بعد گدڑی قبیلے کے مقامی سربراہ مقصود نے جرگہ بلا لیا۔ جرگے نے چالیس دیگر افراد کی موجودگی میں ندیم کے خاندان کو حکم دیا کہ رواج کے مطابق انہیں اب یہ علاقہ چھوڑنا ہوگا۔

علاقہ بدری کا حکم ملنے والے خاندان نے اپنا گھر چھوڑنے سے انکار کیا تو مبینہ طور پر بیس کے قریب افراد سر پنچ مقصود کی قیادت میں ندیم کے گھر پرحملہ آور ہوئے اور پورے خاندان کو جس میں چار مرد، چھ خواتین اور چار بچے شامل تھے زبردستی بے دخل کردیا اور گھریلو سامان کی توڑ پھوڑ کرکے آگ لگا دی۔ حملہ آوروں نے مبینہ طور پر خواتین سے دست درازی بھی کی۔

خانپور سٹی پولیس کے تفتیشی افسر ملک خدا بخش نے بی بی سی کو بتایا انہیں شک ہے کہ زیادتی والی بات میں کوئی حقیقت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف ندیم اور اس کے خاندان کے مکانوں پر قبضے کی سازش لگتی ہے جس کے پیچھے سر پنچ مقصود کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مقصود ریلوے کا ملازم ہے اور گدڑی قبیلے کی سرپرستی کرتا ہے۔

ان سے پوچھا گیا کہ جب پولیس کو زیادتی کا الزام ہی مشکوک لگتا ہے تو ندیم کو جیل میں کیوں ڈالا گیا ہے تو تفتیشی افسر نے کہا کہ مقصود وغیرہ جب مقدمہ درج کرانے آئے تھے تو ان کے ساتھ ایک مقامی صحافی بھی تھے جنہوں نے دھمکایا کہ اگر کاروائی نہ ہوئی تو وہ اس معاملے کو ’مختاراں مائی کیس‘ بنا دیں گے۔

بے دخلی اور توڑ پھوڑ کے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے بے دخل خاندان کو ایک دفعہ ان کے گھروں میں لا بٹھایا تھا لیکن وہ لوگ ڈر کے مارے خود ہی دوبارہ اپنا علاقہ چھوڑ کر بھاگ آئے ہیں۔

جب دریافت کیا گیا کہ خوف پھیلانے اور زبردستی علاقہ بدر کرانے والوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جارہی تو ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ افسر دونوں فریقوں میں صلح کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد