BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 June, 2005, 16:11 GMT 21:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خاتون کو سر عام برہنہ کردیا گیا

ایک خاتون
پاکستان میں موجودہ سال میں خواتین کے خلاف اسی نوعیت کے جرائم کے متعدد واقعات ہوئے ہیں
پنجاب کے ضلع پاکپتن میں عارف والا کے ایک گاؤں میں غیرت کے نام پر ایک اٹھارہ سالہ لڑکی کو چوک میں برہنہ کر دیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

پولیس نے مقدمہ درج کرکے سات ملزموں کو گرفتار کر لیا۔

پولیس کے مطابق چک اکتالیس بی قبولہ کے رہائشی رحمت علی پر اسی کے گاؤں کی ایک خاتون کلثوم نے الزام عائد کیا تھا کہ اس نے پرسوں رات مبینہ طور پر اس کے گھر میں داخل ہو کر اس پر جنسی حملہ کیا۔

پولیس کے مطابق اس کا انتقام لینے کے لیے کلثوم کے رشتہ داروں نے رحمت علی کے گھر پر کل دن کے گیارہ بجے دھاوا بول دیا۔

عارف والا کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس ملک اویس نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزمان مسلح تھے انہوں نے رحمت کی بیوہ ماں سکینہ، اس کی دس سالہ بہن شاہین اور اٹھارہ سالہ بہن عنبرین کو تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں گھر سے باہر لایا گیا اور گاؤں کے چوراہے میں لے جاکر کلثوم کے کپڑے پھاڑ کے اسے بے لباس کر دیا گیا۔

ڈی ایس پی نے کہا کہ ملزمان نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور ایسی حرکات کیں جو جنسی تشدد کے زمرے میں آتی ہیں ان کا کہناتھا کہ لڑکی کے چہرے پر دانتوں سے کاٹے جانے کے نشانات تھے۔انہوں نے کہا کہ ’لڑکی کو بالکل بے لباس کر دیاگیا۔‘

پولیس کے مطابق گاؤں والوں نے ان خواتین کو ملزمان سے چھڑایا اور بعد میں پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ تین سو چون اے کے تحت مقدمہ درج کرکے مقدمہ میں نامزد تمام ساتوں ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

ایف آئی آر کے نامزد ملزمان میں کلثوم کا شوہر محمد یوسف اور محمد یوسف کے تین حقیقی بھائی بھی شامل ہیں۔

ڈی ایس پی انوسٹی گیشن خالد ڈوگر کا کہنا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ ایف آئی آر میں نامزد تمام ملزمان وقوعہ پر موجود تھے یا نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تفتیش جاری ہے ۔

خاتون کا طبی ملاحظہ کرالیا گیا ہے اور پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی اور غیر حتمی رپورٹ کے مطابق ان کے جسم پر تشدد کے نشانات پاۓ گئے ہیں۔

پاکستانی پنجاب کے دیہی علاقوں میں مخالفین سے بدلہ لینے کے لیے ان کی خواتین سے اس قسم کے سلوک کی شکایات منظر عام پر آتی رہی ہیں۔
تعزیرات پاکستان کے تحت خاتون کو سرعام برہنہ کرنے کی سزا موت یا عمر قید تک دی جاسکتی ہے۔

تین سال قبل اسی نوعیت کے ایک واقعہ میں جنوبی پنجاب کے شہر مظفر گڑھ میں ایک خاتون مختاراں مائی کو اس کے بھائی کی مبینہ ناجائز تعلقات کی سزا کے طور پر مقامی پنچائت کے کہنے پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا اور یہ واقعہ کو عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد