پنچایت کے حکم پر آبرو ریزی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پنجاب کےضلع خانیوال کے گاؤں ڈِنگا نائچ میں پنچائیت کے حکم پر دُو خواتین کو مُبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہےـ ملزموں کو شک تھا کہ زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین کے بھائی ریاض کے اُن کی ایک لڑکی شاھینہ سے ناجائز تعلقات ہیں ـ خانیوال کے قائم مقام ضلعی پولیس افسر سعداللہ خان نے واقعہ کی تصدیق کی ہے ـ اُنہوں نے بتایا کہ پولیس نے واقعہ میں ملّوث تمام ملزموں کو گرفتار کر لیا ہے ـ گرفتار ہونے والے چھ ملزموں میں پنچائیت کے تین ارکان بھی شامل ہیں ـ واقعہ کے مرکزی ملزم غفّار جِیر نے پنچائیت کے روبرو الزام لگایا تھا کہ ریاض نے اُس کی بیٹی شاھینہ کو زبردستی اپنی ہوّس کانشانہ بنایا ہے ـ غفّار نے مطا لبہ کیا تھا کہ اب اُسے بھی ریاض کے گھر کی کسی عورت کو " بے عِزت " کرنے دیا جاۓ ـ تفصیلات کے مطابق ریاض کراچی میں محنت مزدوری کرتا ھے اُور اِن دنِوں گندم کی کٹائی کے لیۓ اپنے گھر بستی ڈنگہ نائچ آیا ھوا تھا ـ اِس کے والد نواز مصلّی اور غفّار جیِر دونوں ایک زمیندار ملک افضل نائچ کی زمینوں پر کام کر تےہیں ـ چند روز قبل غفّار کی بہن حمیداں نے ریاض اُور شاھینہ کو اکِٹھے ایک کمرے میں جاتے دیکھا تو شور مچا دیا ـ لوگوں کے پہنچنے سے قبل ہی ریاض موقع سے رفو چکر ہو گیا اُور آج تک دوبارہ نظر نہیں آیا ـ غفّار اُور اُس کے ساتھیوں نے زمیندار افضل نائچ کو شکایت کی اُورساتھ ہی پنچائیت بلانے کا مطالبہ بھی کر دیا ـ افضل نائچ کے مطابق غفّار وغیرہ نے یہ دھمکی بھی دی کہ اگر پنچائیت نہ بلائی گئی تو وہ خود بدلہ لے لینگے ـ اِس پر افضل نائچ نے نواز مصلّی اُور اُس کے خاندان کو اپنے گھر پناہ دی اُور ساتھ ہی علاقہ کے " معّززین " کو پنچائیت بلانے کی درخواست بھی کر دی ـ چند روز بعد حاجی سلطان‘ حاجی نجمل اُور احمد نواز پر مشتمل پنچائیت غفّار کے گھر اِکٹھی ہوئی ـ غفّار "بے عِزتی" کے بدلے بے عِزتی کرنا چاہتا تھا جبکہ پنچائیت نے فیصلہ دیا کہ ریاض کی بہن ممتاز اگر آکر اپنے بھائی کے کیۓ کی معافی مانگ لے تو معاملہ رفع دفع ہو سکتا ہے ـ افضل نائچ جا کر ممتاز اُور اُس کی بھابھی مُدثن بی بی کو پنچائیت کے سامنے لے آیا ـ افضل نائچ کا کہنا ہے کوجونہی وہ پنچائیت کے روبرو پہنچے تو غفّار دونوں لڑکیوں کو گھسیٹ کر قریب ہی ایک خالی کمرے میں لے گیا جبکہ اُس کے بھائی ظہور اُور ایک ساتھی بشیر نے باہر سے دروازہ بند کر دیا ـ نائچ کے مطابق ممتاز اُور مُدثن کی داد و فریاد پر اُس نے پُر سکون بیٹھے ہوئے سرپنچوں کے آگے احتجاج کیا کہ یہ فیصلے کی خلاف ورزی ہے ـ سرپنچوں نے تھوڑی دیر بعد غفّار کو آواز دی کہ وہ لڑکیوں کو چھوڑ دے ـ پولیس نے نواز مصلّی کی رپورٹ پر غفّار‘ ظہور‘ بشیر‘ حاجی سلطان‘ حاجی نجمل اُور احمد نواز کے خلاف حدود آرڈیننس کی دفعہ79/7/10 اُور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 109(اعانتِ جرم) کے تحت پرچہ درج کر لیا ہے ـ تاہم پولیس نے ملزم غفّار کی بیٹی شاھینہ کی رپورٹ پر ریاض اُور اُس کی ایک اور بھابھی شمیم کے خلاف بھی حدود آرڈیننس کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے ـ مدعیہ نے الِزام لگایا ہے کہ شمیم نے اُسے بہانے سے بُلا کر ریاض کے ساتھ ایک کمرے میں بند کر دیا تھا جہاں ریاض نے اُسے زبردستی زیادتی کا نشانہ بنایا ـ پولیس حکُام نے ممتاز‘ مُدثن اُور شاھینہ کے طِبی مُعائنہ کے لیۓ احکامات جاری کر دیۓ ہیں ـ جنوبی پنجاب میں خواتین کے خلاف زیادتیوں کے واقعات آئے روز رونما ہوتے رہتے ہیں ـ کچھ عرصہ قبل ضلع مظفر گڑھ کے گاؤں میروالہ میں مختیار مائی کو بھی ایک پنچائیت کے حکم پر اِجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا ـ حکومتِ وقت نے واقعہ کا سخت نوٹس لیا تھا اُور بعد میں ایک خصوصی عدالت نے چھ ملزموں کو سزاۓ موت اُور کوڑے مارنے کا حکم سنایا تھا ـ سزا پانے والوں میں دو سر پنچ بھی شامل تھے ـ توقع کی جا رہی تھی کے اتِنی سخت سزاؤں کے بعد شاید دوبارہ ایسا واقعہ رونما نہ ہو ـ لیکن ڈِ نگہ نائچ کے واقعہ نے ثابت کیا ہے کہ لوگوں نے میروالہ کے سانحہ سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا ـ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||