غیرت کے نام پر پانچ افراد قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سیالکوٹ میں بظاہر غیرت کے نام پر ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کو فائرنگ کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والے تمام افراد اُس نوجوان کے قریبی رشتہ دار ہیں جس پر الزام ہے کہ اس نے ملزمان کی مرضی کے خلاف ان کے خاندان کی لڑکی سے شادی کر لی تھی۔ سیالکوٹ کے علاقے اگوکی کے ایک نوجوان غلام عباس کوئی پانچ مہینے پہلے اپنے ہمسائے کی ایک لڑکی کو لیکر غائب ہوگئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق بعد میں دونوں نے شادی کر لی لیکن لڑکی کے گھروالوں نے نوجوان اور ان کے والدین کے خلاف حدود آرڈیننس کے تحت اغوا کا مقدمہ درج کرادیا جس پر غلام عباس اور اس کے والدین نے اپنا گھر بار چھوڑ دیا اور سیالکوٹ کے نواحی علاقے میں رہنے لگے۔ تھانہ سٹی ڈسکہ کے پولیس اہلکار غضنفر علی نے بتایا کہ پرسوں صبح لڑکی کے والد اور دیگر رشتہ داروں نے مبینہ طور پر ان کے نئے گھر پر حملہ کر کے فائرنگ کی۔ فائرنگ میں ایک رشتہ دار کو تو وہیں ہلاک ہوگیا جبکہ لڑکے کی ماں سمیت چار رشتہ داروں کو اغوا کرلیاگیا جن کی لاشیں بعد میں ان کے پرانے گاؤں مظفر پورہ اگوکی سے برآمد ہوئیں۔ لڑکے غلام عباس کے والد بھی اس وارادت کے دوران فائرنگ سے زخمی ہوئےہیں۔ اس دوسرے مقدمہ کی مدعیہ ایک مقتول کی بیوہ ہے اور انہوں نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے یہ توکہا ہے کہ اس کے بھتیجے غلام عباس نے ملزمان کی لڑکی کو اغوا کر لیا تھا لیکن یہ اعتراف نہیں کیا کہ دونوں نے شادی کر لی تھی بلکہ یہ کہا ہے کہ ان دونوں کے آپس میں ناجائز تعلقات ہیں۔ پولیس کے کہنا ہے کہ اس وارادت کے بعد سے مرضی کی شادی کرنے والا جوڑا روپوش ہے یوں تو ان دونوں کی جان کو خطرہ بتایا جاتا ہے لیکن مرضی کی شادی کرنے والی لڑکی کو اب دونوں خاندانوں کی جانب سے خطرہ ہے۔ تاحال کوئی ملزم بھی گرفتار نہیں ہو سکا۔ پاکستان میں ہر سال سینکڑوں افراد کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے گذشتہ برس غیرت کے نام قتل کی سزا سخت کر دی گئی تھی لیکن نئے قانون کے نافذ ہونے کے بعد بھی قتل کی ایسی وارداتوں میں کمی نہیں ہوئی جو غیرت کے نام پر کئے جاتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||