BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 20 October, 2003, 12:38 GMT 17:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حدود آرڈیننس کا تنازعہ

مہاجر قومی مومنٹ کی کچھ خواتین
پاکستان میں حدود ارڈیننس ک خلاف خواتین احتجاج کرتی رہی ہیں

پاکستان میں عورتوں کے حقوق سے متعلق اسلامی سزاؤں کے متنازعہ قانون حدود آرڈیننس پر حزب اختلاف کی جماعتوں پیپلز پارٹی اور متحدہ مجلس عمل کے درمیان ایک تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے جس سے صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف حزب اختلاف کے اتحاد میں دراڑیں پڑ سکتی ہیں۔

تنازعہ کا سبب پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین کی رکن قومی اسمبلی شیری رحمان کا عورتوں کے معاملات سے متعلق وہ نجی بل ہے جس میں انہوں نے حدود آرڈیننس کو منسوخ کرنے کے علاوہ عورتوں کی قومی معاملات میں مکمل شرکت ، کارو کاری، عورتوں پر گھریلو تشدد، لڑکیوں کی تعلیم اور ملازمت پیشہ عورتوں کی مردوں کے برابر تنخواہ جیسے معاملات پر قانون سازی کی سفارشات کی ہیں۔

متحدہ مجلس عمل جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں نافذ کیے جانے والے حدود قوانین کی حمایت کرتی ہے اور اس نے پیپلز پارٹی کی جانب سے پیش کیے گۓ اس بل پر احتجاج کیا ہے اور پیپلز پارٹی کی طرف سے اسے واپس نہ لیے جانے پر متحدہ حزب اختلاف سے تعلق ختم کرنے کی دھمکی دی ہے۔

متحدہ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ بے نظیر بھٹو نے اپنے دور اقتدار میں ان قوانین کو ختم کرنے کی بات نہیں کی لیکن اب کچھ عرصے سے پیپلز پارٹی نے حزب اختلاف کو تقسیم کرنے کی یہ مکروہ چالیں چلنا شرع کردی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی نے حدود قوانین میں تبدیلی کا کوئی بل اسمبلی میں پیش کیا تو متحدہ مجلس عمل مشترکہ حزب اختلاف سے الگ ہوجائے گی۔

دوسری طرف ، پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین کے سربراہ مخدوم امین فہیم کا کہنا ہے کہ جب قومی اسمبلی میں شریعت بل پیش کیاگیا تو ان کی جماعت نے کوئی ہنگامہ کھڑا نہیں کیا اور کسی سے یہ نہیں کہا کہ وہ مشترکہ حزب اختلاف سے الگ ہوجائیں گے تو اب اگر ان کی جماعت اپنی سوچ کے مطابق حدود آرڈیننس کو ختم کرانے کے لیے بل لانا چاہتی ہے تو اس پر کسی کو پریشان نہیں ہونا چاہیے۔

بل پیش کرنے والی رکن اسمبلی شیری رحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ حدود قوانین کو ختم کرنے کی بات پیپلز پارٹی کے منشور کا حصہ ہے اور پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو چند ماہ پہلے ہی ایسا بل اسمبلی میں لانے کی اجازت دے چکی ہیں جسے انہوں نے نجی بل کے طور پر قومی اسمبلی سیکریٹیریٹ میں جمع کرایا ہے اور اسے بحث کے لیے کسی وقت قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

شیری رحمان کا کہنا ہے کہ حال ہی میں عورتوں کے قومی کمیشن نے حدود قوانین کو منسوخ کرنے کے بارے میں اپنی سفارشات پیش کیں تو انہوں نے سوچا کہ یہ بات تو ان کی پارٹی کے منشور میں درج ہے اور ان کی جماعت ملک کی سب سے زیادہ ترقی پسند جماعت ہے اس لئے کیوں نہ وہ اسے اسمبلی میں پیش کریں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی کا اپنا ایجنڈا ہے اور پارلیمنٹ کو بنے ایک سال ہوگیا ہے اس لیے پارٹی کو اپنے منشور کے مطابق اپنے کمٹمینٹ کو واضح کرنا ہے جس کے لیے انہوں نے یہ بل اسمبلی میں پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملا ہر بات کو مسلط نہیں کرسکتے۔

 ملا ہر بات کو ڈکٹیٹ نہیں کرسکتے

رکن اسمبلی شیری رحمان

پیپلز پارٹی کی رکن کی طرف سے حدود آرڈیننس کو ختم کرنے کے بل پر مجلس عمل کے رہنماؤں کا رویہ خاصا جارحانہ ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے رہنما اس اختلاف کو ذرا دبا کر پیش کررہے ہیں۔ تاہم آئندہ آنے والے دنوں میں اگر پیپلز پارٹی اس معاملہ پر اپنا موقف برقرار رکھتی ہے تو یہ قومی سیاست میں بدلتی ہوئی صف بندی کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے۔

پیپلز پارٹی اقوام متحدہ کے تحت پاکستان کے فوجی دستے عراق بھیجنے کی حمایت بھی کرچکی ہے جس کی متحدہ مجلس عمل نے شدید مخالفت کی ہے۔ اس طرح حدود قوانین پر اختلاف کے بعد قومی معاملات پر پیپلز پارٹی اور مجلس عمل میں دوری مزید بڑھے گی۔

حدود آرڈیننس کے متنازعہ معاملہ پر بحث عورتوں کی حیثیت کے بارے قومی کمیشن کی سربراہ جسٹس (ر) ماجدہ رضوی کے اس اعلان سے شروع ہوئی تھی کہ حدود آرڈیننس اور اس کے عورتوں کے لیے مضمرات پر کمیشن کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی کے سترہ میں سے پندرہ ارکان نے ان قوانین کو مسترد کردیا ہے کیونکہ ان کی نظر میں وہ غیر اسلامی ہیں۔

کمیٹی نے حکومت سے سفارش کی ہے کہ ان قوانین کو منسوخ کیا جائے۔ جن دو ارکان نے انہیں منسوخ کرنے کی حمایت نہیں کی انہوں نے بھی ان میں ترمیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

جسٹس ماجدہ رضوی کا کہنا ہے کہ حدود کے قوانین قرآن کی تعلیمات کے مطابق نہیں ہیں کیونکہ اسلام انصاف اور برابری کی تبلیغ کرتا ہے اور یہ قوانین ناانصافی پر مبنی ہیں اور ان کا سب سے زیادہ مضر اثر عورتوں پر ہوا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کمیٹی کے ارکان نے یہ محسوس کیا کہ ان قوانین کی وجہ سے عورتوں کی حالت انیس سو اناسی سے پہلے کے زمانے سے بھی ابتر ہوگئی ہے جب یہ قوانین نافذ نہیں تھے۔

جسٹس ماجدہ رضوی کا کہنا ہے کہ ان قوانین میں رکھی گئی سزائیں بہت سخت ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قران مجید میں سنگسار کرنے کی سزا نہیں ہے اسی طرح چوری، زنا اور قذف کے قوانین بھی اسلام کے خلاف ہیں۔

قومی کمیشن کی اس کمیٹی کی رائے ہے کہ زیادہ تر سزاؤں کا تعلق تعزیرات پاکستان سے ہے اور صرف بائیس شقیں ایسی ہیں جو براہ راست حد کی ذیل میں آتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ حدود آرڈیننس میں دی گئی زیادہ سزائیں اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں اور ان کو سمجھنا مشکل ہے۔ اس کے علاوہ حد کے ان اسلامی قوانین کو اقلیتوں پر بھی نافذ کردیا گیا جبکہ انیس سو تہتر کے آئین اور شریعہ ایکٹ میں کہا گیا ہے کہ اقلیتیں اسلامی قوانین کے دائرہ میں نہیں آتیں۔

جسٹس ماجدہ رضوی انیس سو چورانوے سے انیس سو ننانوے تک سندھ ہائی کورٹ کی جج رہیں اور مارچ دو ہزار دو میں انہیں عورتوں کے بارے میں کمیشن کا چئیرپرسن مقرر کیا گیا تھا۔

کمیشن حکومت کا ایک مشاورتی ادارہ ہے جس کا کام عورتوں کے حقوق سے متعلق معاملات پر نظر ثانی، سروے کرنا، رپورٹیں بنانا اور عورتوں سے متعلق قوانین میں تبدیلیوں کے بارے میں سفارشات دینا شامل ہیں۔

پچھلے سال مئی میں کمیشن نے حدود کے قوانین پر نظر ثانی کے لیے ایک کمیٹی بنائی تھی جس میں اسلامی نظریاتی کونسل کے ارکان، وکلاء، جج، سرکاری ملازمین، مذہبی اور سماجی تنظیموں کے نمائندے شامل تھے۔

اس سال جون میں کمیٹی نے اپنا کام مکمل کیا اور بیالیس صفحوں پر مبنی ایک تفصیلی رپورٹ تیار کی۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت حدود قوانین ختم کرکے پرانے قوانین کو بحال کرے یا نۓ قوانین بنائے اور اگر نۓ قوانین بنائے تو پہلے اس کا مسودہ عوام میں ہر سطح پر بحث کے لئے تقسیم کرے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد