’غیرت‘ کے نام ایک اور قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی پنجاب کے شہر خان پور میں غیرت کے نام پر ایک لڑکی اور اس سے شادی کے خواہشمند نوجوان کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا۔ پولیس نے لڑکی کے بھائی اور درجن بھر دیگر رشتہ داروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پاکستان میں غیرت کے نام پر ہر سال درجنوں افراد کو ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ خان پور پولیس کے ایک اہلکار محمد اکبر نے بتایا کہ خان پور کے نواحی گاؤں امیر پور میں ایک لڑکی پروین کے چند رشتہ داروں کو شک تھا کہ وہ گاؤں کے ایک نوجوان اعجاز احمد کو چھپ کر ملتی ہے۔ پولیس کے مطابق لڑکی کے پندرہ کے قریب رشتہ داروں نے نوجوان اعجاز احمد کو اغوا کر لیا اور گنے کے کھیتوں میں لے گئے جہاں انہوں نے ایک خود ساختہ پنچایت لگائی۔ اس پنچائت میں مبینہ طور پر لڑکے اور لڑکی کو پیش کیا گیا اور دونوں کا موقف سننے کے بعد لڑکی کے رشتہ داروں پر مشتمل اس خود ساختہ پنچایت نے انہیں سزائے موت سنا دی۔ جس کے بعد دونوں کو گنے کے کھیت میں گولیاں مار کے ہلاک کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق لڑکے کے دونوں بازو بھی ٹوٹے ہوئے تھے اور جسم پر بظاہر نظر آنے والے زخموں سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔ دونوں مقتولین کو پوسٹ مارٹم کے بعد مقامی قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا ہے۔ لڑکی کی لاش پوسٹ مارٹم کے بعد ہسپتال میں پڑی رہی اور کئی گھنٹے تک کوئی اسے لینے نہیں آیا تھا پھر پولیس کی مداخلت پر لڑکی کی ماں نے لاش وصول کر لی۔ پولیس نے لڑکے کے رشتہ داروں کے بیان پر خود ساختہ پنچایت کے خلاف تعزیرات پاکستان کے تحت قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ایک ملزم کو گرفتار کر لیاگیا ہے اور باقی کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں غیرت کے نام ہر سال اوسطاً ساڑھے چھ سو سے زائد افراد کو قتل کر دیا جاتا ہے جن میں سے بیشتر عورتیں ہوتی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||