BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 March, 2006, 11:56 GMT 16:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حدود قوانین کی نظرثانی پر اجلاس

پاکستان میں حدود ارڈیننس ک خلاف خواتین احتجاج کرتی رہی ہیں
پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل سے ستائیس برس بعد ملک میں رائج اپنے ہی مرتب کردہ متنازعہ حدود قوانین کو حکومتی کمشن کی جانب سے قرآن اور سنت کے عین مطابق نہ قرار دیئے جانے کے بعد پیر سے ان قوانین پر نظر ثانی شروع کر دی ہے۔

کونسل منگل کے روز ان قوانین کو منسوخ کرنے یا ان میں ترامیم کرنے سے متعلق سفارشات کو حتمی شکل دے گی۔

حدود قوانین کو ملک بھر کی خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیئے کام کرنے والی سرکاری و غیر سرکاری تنظیمیں پہلے ہی امتیازی اور خلاف خواتین قرار دے کر ان کی تنسیخ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

نظریاتی کونسل کے سیکریٹری ریاض الرحمن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ نظریاتی کونسل ان قوانین پر نظر ثانی کر رہی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے آئین کے تحت قوانین کو اسلامی تعلیمات کے تحت جانچنے کا ذمہ دار آئینی ادارہ ہے۔

اس کونسل کی میٹنگ میں پیش کی جانے والی رپورٹ کے مطابق، جس کی روشنی میں ان قوانین پر نظر ثانی کی جائے گی، حدود قوانین قران اور حدیث سے نہیں لئے گئے۔ کونسل کے مطابق ان قوانین میں جزوی ترامیم سے ان قوانین کی بنیادی روح تبدیل نہیں ہو گی لہذا ان پر اس طرح نظر ثانی کی جائے گی تاکہ ان قوانین کے تحت جرائم کی نفسیات اور سزائیں کو قرآن اور سنت کے علاوہ جدید عدالتی نظام میں بھی کار آمد رہیں۔

حدود قوانین کو سن انیس سو اناسی میں اس وقت کے فوجی حکمران جنرل ضیاالحق نے ایک آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا تھا جنھیں انیس سو پچاسی میں اس وقت کی پارلیمان نے منظور کر کے آئین کا حصہ بنا دیا تھا۔ ان قوانین کو اس وقت کی اسلامی نظریاتی کونسل نے مرتب کیا تھا۔حدود قوانین کے تحت چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا، زنا کی سزا سو کوڑےاور سنگسار تاوقت موت، جنسی زیادتی کے الزام کو ثابت کرنے کے لیئے چار مردوں کی لازمی گواہی، شراب نوشی کی کڑی سزا سمیت کئی شقیں شامل کی گئی تھیں۔ آئینی ماہرین کے مطابق حدود قوانین نے پاکستان میں رائج قوانین کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔

کونسل نے پیر کے اجلاس میں پیش کی گئی رپورٹ میں کہا ہے کہ حدود قوانین کی وجہ سے جرائم میں کمی نہیں آئی اور نہ ہی زنا، شراب نوشی یا چوری کے واقعات کو کم کرنے میں کوئی مدد ملی ہے۔کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ چند برسوں میں حدود قوانین کے تحت تین لاکھ سے زائد کیس رجسٹر ہوئے۔

پاکستان میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیئے کام کرنے والی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق ان قوانین کے تحت ہزاروں خواتین جن کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا وہ جیلوں میں برسوں سے صرف اس لیئے قید ہیں کہ وہ اپنے خلاف جنسی زیادتی کو ثابت کرنے کے لیئے چار مرد گواہ پیش نہیں کر سکیں جس کے بعد ان کو زیادتی کرنے والے فرد کے خلاف جھوٹا الزام لگانے کی پاداش میں جیل میں ڈال دیا گیا۔

پاکستان کی پارلیمان میں حدود قوانین کو ختم کرنے کے بارے میں پہلے ہی بل بحث کے لیئے منظور ہو چکے ہیں۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے مطابق پاکستانی معاشرہ اور ذرائع ابلاغ حدود قوانین کے مسئلے پر تین گروپوں میں بٹا ہوا ہے جن میں سے ایک ان قوانین کو رائج کرنے کے حق میں، دوسرا ان کی تنسیخ اور تیسرا گروپ ان قوانین میں ترامیم کی بات کرتا ہے۔

پاکستان کی زیادہ تر حکومتی و حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں ان قوانین کو ختم کرنے کے حق میں ہیں مگر دینی جماعتیں اور حلقے ان قوانین کو قرآن اور سنت کے عین مطابق قرار دیتے ہوئے ان قوانین کے خاتمے کے خلاف ہیں۔ یہ خلیج پاکستان کی پارلیمان سے ملک کے گلی محلوں تک پھیلی ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ حدود آرڈیننس کے متنازعہ معاملہ پر بحث عورتوں کی حیثیت کے بارے قومی کمیشن کی سربراہ جسٹس (ر) ماجدہ رضوی کے اس اعلان سے شروع ہوئی تھی کہ حدود آرڈیننس اور اس کے عورتوں کے لیے مضمرات پر کمیشن کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی کے سترہ میں سے پندرہ ارکان نے ان قوانین کو مسترد کردیا ہے کیونکہ ان کی نظر میں وہ غیر اسلامی ہیں۔

کمیٹی نے حکومت سے سفارش کی ہے کہ ان قوانین کو منسوخ کیا جائے۔ جن دو ارکان نے انہیں منسوخ کرنے کی حمایت نہیں کی انہوں نے بھی ان میں ترمیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

جسٹس ماجدہ رضوی کا کہنا ہے کہ حدود کے قوانین قرآن کی تعلیمات کے مطابق نہیں ہیں کیونکہ اسلام انصاف اور برابری کی تبلیغ کرتا ہے اور یہ قوانین ناانصافی پر مبنی ہیں اور ان کا سب سے زیادہ مضر اثر عورتوں پر ہوا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کمیٹی کے ارکان نے یہ محسوس کیا کہ ان قوانین کی وجہ سے عورتوں کی حالت انیس سو اناسی سے پہلے کے زمانے سے بھی ابتر ہوگئی ہے جب یہ قوانین نافذ نہیں تھے۔

جسٹس ماجدہ رضوی انیس سو چورانوے سے انیس سو ننانوے تک سندھ ہائی کورٹ کی جج رہیں اور مارچ دو ہزار دو میں انہیں عورتوں کے بارے میں کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کیا گیا تھا۔

کمیشن حکومت کا ایک مشاورتی ادارہ ہے جس کا کام عورتوں کے حقوق سے متعلق معاملات پر نظر ثانی، سروے کرنا، رپورٹیں بنانا اور عورتوں سے متعلق قوانین میں تبدیلیوں کے بارے میں سفارشات دینا شامل ہیں۔ پچھلے سال مئی میں کمیشن نے حدود کے قوانین پر نظر ثانی کے لیے ایک کمیٹی بنائی تھی جس میں اسلامی نظریاتی کونسل کے ارکان، وکلاء، جج، سرکاری ملازمین، مذہبی اور سماجی تنظیموں کے نمائندے شامل تھے۔

کمیٹی نے اپنا کام جون 2003 میں مکمل کیا اور بیالیس صفحوں پر مبنی ایک تفصیلی رپورٹ تیار کی تھی جو اب اسلامی نظریاتی کونسل کے زیر بحث آئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد