عدالت انصاف کرے گی: درانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات محمد علی درانی نے کہا ہے کہ جیک آباد سے لاپتہ صحافی مکیش روپیٹا اور ان کے کیمرہ مین سنجیو کمار کو عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے اور عدالت میں ان کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔ بی بی سی اردو سروس کو ٹیلی فون پر انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاپتہ صحافی اور کیمرہ مین کے عدالت میں پیش کیئے جانے سے معاملے کی صحیح سمت کا تعین ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں گزشتہ رات اطلاع ملی تھی کہ مکیش اور ان کے ساتھی کو تھانے میں پیش کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل ذرائع ابلاغ میں ان کی گمشدگی کی اطلاعات پر انہوں نے مقامی انتظامیہ اور پولیس کو ہدایت دی تھیں کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جائیں۔ مکیش اور ان کے ساتھی کی تین ماہ تک گمشدگی کے بارے میں محمد علی درانی نے کہا کہ اب جب کے مکیش کو عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے تو وہ بتائیں گے کہ وہ تین ماہ تک کہاں تھے۔ محمد علی درانی سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا صحافیوں کو پاکستان میں کوئی تحفظ حاصل ہے تو انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو بھی حدود ہوتی ہیں اور ان پر بھی کوئی قانون لاگو ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ نہیں ہو سکتا کہ جب بھی کوئی صحافی چاہے میرے گھر میں گھس کر فلم بنانا شروع کر دے۔‘ تاہم جب محمد علی درانی سے یہ پوچھا گیا کہ کیا تین ماہ تک کسی شحص کو بغیر کسی الزام کے قید رکھا جا سکتا ہے تو انہوں نے اس کا جواب نہیں دیا اور اس کے بعد فون بند ہو گیا۔ | اسی بارے میں خوف کےمارے چپ رہے: صحافی کا بھائی22 June, 2006 | پاکستان گمشدہ صحافی، کیمرہ مین ’برآمد‘22 June, 2006 | پاکستان سپریم کورٹ کا از خود نوٹس21 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||