سپریم کورٹ کا از خود نوٹس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے بدھ کے روز صحافی حیات اللہ کے قتل کا از خود نوٹس لیتے ہوئے صوبہ سرحد کی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔ سپریم کورٹ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس نے صوبہ سرحد کے چیف سیکریٹری کو ہدایت کی ہے کہ وہ جلد سے جلد شمالی وزیرستان کے صحافی کی ہلاکت کے بارے میں رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔ عدالت نے انہیں واضح طور پر ہدایت کی ہے کہ جواب تیس جون تک عدالت میں داخل کیا جائے۔ چیف جسٹس اس معاملے پر یکم جولائی کو اپنے چیمبر میں مزید کارروائی کے لیے غور کریں گے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اُس وقت نوٹس لیا ہے جب حکومت نے حیات اللہ کی پراسرار ہلاکت کی تحقیقات کے لیے پشاور ہائی کورٹ کے جج جسٹس رضا محمد خان کو نامزد کردیا ہے۔ اسلام آباد کے صحافی کئی روز سے حیات اللہ کے قتل کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتے رہے تھے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے سامنے بھی احتجاجی مظاہرہ کیا اور چیف جسٹس سے از خود نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کیاتھا۔ واضح رہے کہ حیات اللہ کو چھ ماہ قبل اغوا کیا گیا اور گزشتہ جمعہ کو ان کی ہتھکڑیوں لگی لاش میر علی ے قریب سے ملی تھی۔ | اسی بارے میں صحافی حیات اللہ کا قتل 16 June, 2006 | پاکستان ’یہ صحافتی آزادی کا قتل ہے‘ 16 June, 2006 | پاکستان حیات اللہ قتل کی تحقیقات کا حکم17 June, 2006 | پاکستان صحافی کا قتل، ’عدالتی‘ تحقیقات18 June, 2006 | پاکستان حیات اللہ کے قتل پر ملک گیر یومِ سیاہ19 June, 2006 | پاکستان حیات اللہ کے قتل پر احتجاج17 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||