گمشدہ صحافی، کیمرہ مین ’برآمد‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک مقامی ٹیلی وژن کے صحافی مکیش روپیٹا اور کمیرہ مین سنجیو کمار جو پانچ مارچ سے گمشدہ تھے، گزشتہ رات اچانک اس وقت بازیاب ہوگئے جب ایک خفیہ ادارے کی طرف سے انہیں پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ مکیش روپیٹا اور سنجیو کمار کی جیکب آباد کے صدر تھانے میں موجودگی کی خبر صحافیوں میں پھیلائی گئی جس کے بعد کچھ اخبار نویسوں کے علاوہ مکیش کے بھائی ڈاکٹر گھنشام نے تھانے میں مکیش سے ملاقات کی۔ تھانے میں صحافیوں سے ملاقات کرنے والے ایک مقامی صحافی نے بتایا کہ مکیش اور سنجیو دونوں ہی کافی کمزور دکھائی دے رہے تھے۔ ان دونوں کو قانون نافذ کرنے والے ایک ادارے نے اپنی تحویل میں رکھا ہوا تھا۔ دونوں ہی کے خلاف جیک آباد میں واقع شہباز ائر بیس کی بغیر اجازت فلم بندی کرنے جبکہ مکیش کے خلاف بعض افراد کو پاکستانی پاسپورٹ تیار کروا کے دینے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ تاہم جب پولیس سے ان الزامات کی تفصیل پوچھی گئی تو تھانے کے ایک اہلکار نے کچھ کہنے سے گریز کیا۔ مکیش اور سنجیو کی گمشدگی کےچار ماہ بعد مقامی ادارے نے جس میں دونوں ملازم تھے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا تھا اور بدھ کو سندھ میں اس معاملے پر موثر انداز میں آواز اٹھائی گئی تھی۔ | اسی بارے میں ’یہ صحافتی آزادی کا قتل ہے‘ 16 June, 2006 | پاکستان صحافی حیات اللہ کا قتل 16 June, 2006 | پاکستان حکومت کے کان پر جو تک نہیں رینگی16 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||