’ہم خوف کےمارے چپ رہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تین ماہ خفیہ اداروں کی حراست میں رہنے کے بعد اچانک نمودار ہونے والے صحافی مکیش روپیٹا کے بھائی ڈاکٹرگھنشام نے سوال کیا ہے کہ مکیش کی پانچ ماہ تک مسلسل گمشدگی کے باعث پورے خاندان کو پہنچے والی اذیت کا ذمہ دار کون ہے؟ بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مارچ میں ان کے بھائی مکیش روپیٹا کو جو ایک نشریاتی ادارے کے لیئے کام کرتے ہیں ان کے کیمرہ مین ساتھی کے ساتھ مقامی پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔ پولیس ابتدا میں یہ کہتی رہی کہ انہیں شہباز ایئر بیس کے کچھ شاٹس بنانے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا ہے اور ضروری پوچھ گچھ کے بعد رہا کر دیا جائے گا۔ لیکن پولیس کی حراست سے انہیں آٹھ مارچ کو خفیہ ادارے والے اٹھا کر لے گئے اور اس کے بعد سے ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔ خاندان کو یہ تک نہیں بتایا گیا کہ انہیں کہاں اور کس الزام کے تحت قید رکھا گیا تھا۔ ڈاکٹرگھنشام نے کہا کہ ان کا خاندان بے بسی اور خوف کے عالم میں تھا اور اسی بنا پر انہوں نے مکیش کی گمشدگی کے خلاف کوئی درخواست دائر نہیں کی۔
انہوں نے کہا کل مکیش کو عدالت میں پیش کیا گیا اور ان سے خاندان والوں کی مختصر ملاقات کرائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مکیش پر اب چوری چوری فلم بندی کرنے کا الزام عائد کیا گیا اور انہیں الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ جیک آباد کا شہباز ائیربیس افغانستان پر امریکی حملے سے قبل امریکی فوج کے حوالے کر دیا گیا تھا اور اس کے بعد سے حکومت اس سلسلے میں کوئی اطلاع فراہم کرنے سے انکار کرتی ہے۔ | اسی بارے میں گمشدہ صحافی، کیمرہ مین ’برآمد‘22 June, 2006 | پاکستان صحافی کے قتل پر احتجاج جاری20 June, 2006 | پاکستان حیات اللہ کے قتل پر احتجاج17 June, 2006 | پاکستان ’یہ صحافتی آزادی کا قتل ہے‘ 16 June, 2006 | پاکستان صحافی حیات اللہ کا قتل 16 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||