صحافی کے قتل پر احتجاج جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں صحافی حیات اللہ کے قتل کے خلاف صحافی برادری کا احتجاج جاری ہے اور پشاور میں قبائلی صحافیوں نے ہتھکڑیاں اور سیاہ پٹیاں پہن کر گورنر ہاؤس کے سامنے احتجاج کیا۔ ادھر سرگرم مقامی طالبان نے صحافی حیات اللہ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اس میں ان کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والےصحافیوں نےمنگل کی صبح ایک جلوس کے شکل میں پشاور پریس کلب سے گورنر ہاؤس تک احتجاجی مارچ کیا۔اس مظاہرے میں پشاور کے صحافی بھی شریک تھے۔ ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس کے زیرِ اہتمام اس مظاہرے میں شریک صحافیوں نے ہتھکڑیاں اور سیاہ پٹیاں پہن رکھی تھیں۔مظاہرین نے تمام راستے حیات اللہ کے قاتلوں کو گرفتار کرنے اور سزا دینے کے حق میں ’حیات ہم شرمندہ ہیں تیرے قاتل زندہ ہیں‘ اور’ ناکام حکومت ہائے ہائے‘ جیسے نعرہ بلند کیے۔ گورنر ہاؤس کے سامنے مظاہرین سے ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس کے عہدیداروں ناصر مہمند اور ڈاکٹر نور حکیم نے خطاب میں صحافی کے قاتلوں کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر ایک قبائلی عائشہ گلالئی کا کہنا تھا کہ حیات اللہ کے بچوں نے اس گورنر ہاؤس میں حکام سے رحم کی اپیلیں کیں لیکن انہیں ناکام واپس لوٹا دیا گیا۔ پشاور اور قبائلی علاقوں کے صحافیوں نے حیات اللہ کے قاتلوں کی گرفتاری تک یہ احتجاجی سلسلہ جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
ادھر شمالی وزیرستان میں اپنے آپ کو مقامی طالبان کا نمائندہ ظاہر کرتے ہوئے ایک شخص نے آج اس قتل سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ ٹیلیفون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس شخص نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ حیات اللہ ’شہید‘ ہوئے ہیں لہذا وہ اس پر ان کے اہل خانہ کو مبارک باد دیتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس ہلاکت میں مقامی شدت پسند ملوث ہیں جوکہ بقول ان کے درست نہیں ہے۔ مقامی طالبان کے اس ترجمان نے بھی اس قتل کا الزام پاکستانی خفیہ ایجنسیوں پر ڈالا۔انہوں نے واضح کیا کہ ان کی طرف سے صحافیوں کے وزیرستان میں داخلے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان کی ترجمانی اکثر عبداللہ فرہاد کیا کرتے ہیں۔ تاہم یہ واضع نہیں کہ کسی اور کی جانب سے یہ مذمتی بیان دینے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی۔مبصرین کے خیال میں اس کی ایک وجہ مقامی طالبان کا ابھی بھی مختلف چھوٹے چھوٹے گروپوں میں تقسیم ہونا ہوسکتی ہے۔ | اسی بارے میں صحافی حیات اللہ کا قتل 16 June, 2006 | پاکستان ’حکومت پرائم اکیوزڈ ہے‘ گورنر19 June, 2006 | پاکستان صحافی کا قتل، سیکرٹری فاٹا معطل28 April, 2006 | پاکستان کراچی میں صحافیوں کا احتجاج19 June, 2006 | پاکستان حیات اللہ: سی پی جے کا اظہار غم17 June, 2006 | آس پاس باجوڑ:صحافیوں کے داخلے پر پابندی17 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||