صحافی کا قتل، سیکرٹری فاٹا معطل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی عدالت اعظمیٰ نے جمعہ کے روز وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے ’فاٹا‘ میں صحافی نصیر خان آفریدی کے قتل کا مقدمہ درج نہ کرنے کے جرم میں سیکریٹری فاٹا، پولیٹیکل ایجنٹ اور اسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ سمیت کوہاٹ کی ’فرنٹیئر ریجن‘ کی انتطامیہ کے بعض اہلکاروں کو معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری، جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس سید سعید اشہد پر مشتمل بینچ نے مقتول صحافی کی بیگم کی درخواست اور ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں پر کارروائی کرتے ہوئے یہ حکم جاری کیا ہے۔ کوہاٹ کی فرنٹیئر ریجن کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ نے عدالت میں مقدمہ درج نہ کرنے کی وجوہات پیش کی لیکن عدالت نے ان کا عذر مسترد کرتے ہوئے اپنا حکم سنایا۔ عدالت نے صوبہ سرحد کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سعید خان شانگلا کو ہدایت کی کہ وہ ضابطہ فوجداری کے تحت مقدمہ درج کرانے اور ملزمان کی گرفتاری یقینی بنانے کے اقدامات کریں۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں دو قبائلی گروہوں کے درمیاں زمینی تنازعہ تھا اور ایک گروہ کے افراد اپنے مخالفین کو قتل کرنے کے لیے گھات لگا کر بیٹھے تھے کے اچانک صحافی نصیر آفریدی وہاں سے گزرے اور وہ غلطی سے قتل کردیےگئے۔ عدالت نے سیکریٹری فاٹا سمیت معطل کردہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ سماعت پر خود پیش ہوکر قتل کا مقدمہ درج نہ کرنے کی وضاحت پیش کریں۔ یاد رہے کہ صوبہ سرحد کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور ان کے حامیوں کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے دوران ایک صحافی حیات اللہ کو اغوا کیا گیا ہے اور کئی ماہ سے ان کے بارے میں حکام کچھ بھی نہیں بتاتے۔ جبکہ شمالی اور جنوبی وزیرستان سے بیشتر صحافیوں نے سکیورٹی ایجنسیوں اور طالبان شدت پسندوں کی دھمکیوں کی وجہ سے اپنا علاقہ چھوڑدیا ہے اور کچھ نے تو صحافت کا پیشہ ہی ترک کردیا ہے۔ جمعہ کے روز سپریم کورٹ کے اُسی بینچ نے ایک اور حکم جاری کرتے ہوئے صوبہ سندھ کی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے کہا ہے کہ حیدرآباد کے ایک سول جج / میجسٹریٹ کے خلاف ملازمت سے برطرفی کی کارروائی شروع کی جائے جو معصوم بچوں کو ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنانے کے معاملے پر بروقت کارروائی کرنے میں ناکام رہے تھے۔ واضح رہے کہ تیرہ اپریل کو حیدرآباد میں قاسم آباد اور بھٹائی نگر پولیس تھانوں میں دس برس اور اس سے بھی کم عمر بچوں کو چوری کے الزام میں پولیس نے گرفتار کرکے انہیں زنجیروں سے ہاتھ پاؤں باندھ کر انہیں تھانے میں تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ عدالت اعظمیٰ نے ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں پر کارروائی کرتے ہوئے جوڈیشل میجسٹریٹ کو فوری طور پر بچوں کو رہا کرانے اور پولیس حکام کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا تھا۔ لیکن متعلقہ عدالتی افسران نے خود سے کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔ جمعہ کے روز سماعت کے موقع پر ڈپٹی انسپکٹر جنرل حیدرآباد نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے متعلقہ تھانوں کے ’ایس ایچ اوز‘ سمیت تیرہ پولیس اہلکاروں کو معطل کردیا ہے اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جا رہی ہے۔ عدالت اعظمیٰ کے چیف جسٹس نے پولیس حکام کے اس قدم کو سراہا اور متعلقہ عدالتی عملے کی اپنے فرض میں ادائیگی میں ناکامی پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ پاکستان میں ایسا کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے کہ اعلیٰ عدالتیں پولیس کو سراہیں اور عدالتی حکام کی سرزنش کریں اور ان کے خلاف ملازمت سے برطرفی کی کارروائی کریں۔ سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو حکم دیا ہے کہ وہ تین ماہ کے اندر متعلقہ عدالتی افسران کے خلاف کارروائی مکمل کرکے رپورٹ رجسٹرار کو پیش کریں۔ | اسی بارے میں فاٹا میں صحافی کا اغواء05 December, 2005 | پاکستان مغوی صحافی کی بازیابی کے لیےمظاہرہ23 December, 2005 | پاکستان باجوڑ:صحافیوں کے داخلے پر پابندی17 January, 2006 | پاکستان صحافی: احتجاجی جلوس اور دھرنا21 March, 2006 | پاکستان پنچایت کے فیصلہ دو خواتین اغوا06 March, 2006 | پاکستان ’گیارہ بگٹی مخالف اغوا‘27 January, 2006 | پاکستان پشاور:صحافی کی بازیابی کیلیےمظاہرہ18 February, 2006 | پاکستان عارف والہ، اغوا شدہ خواتین برآمد13 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||