BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 March, 2006, 12:04 GMT 17:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عارف والہ، اغوا شدہ خواتین برآمد

 مختار مائی
مختار مائی، جن کے خلاف پنچایت نے 2005 میں گینگ ریپ کا حکم دیا تھا
ضلع پاکپتن کی تحصیل عارف والا میں پنچایت کے فیصلہ کے مطابق اغوا کی گئی دو خواتین کو بازیاب کرا لیا گیا ہے۔ پنچایت نے دونوں خواتین کو اغوا کرنے کا فیصلہ اس وقت دیا تھا جب گاؤں کی ایک لڑکی پسند کی شادی کی خاطر گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی۔

عارف والا کے گاؤں اٹھارہ ای بی کے رہائشی زمیندار کی بیٹی اپنے گھر میں کام کرنے والے ملازم کے ساتھ شادی کرنا چاہتی تھی اور گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی جس پر پنچایت نے لڑکے کی دو بھاوجوں کو اٹھانے کا فیصلہ دیا تھا۔ اس فیصلے کے تحت تیرہ افراد نے مبینہ طور پر لڑکے کی رشتہ دار دو خواتین کو اغوا کرلیا تھا۔

اب ان دو خواتین کو تو بازیاب کروا لیا گیا ہے تاہم پسند کی شادی کے لیے گھر چھوڑ کر جانے والی لڑکی کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ دوسری جانب اغواء ہونے والی خواتین کے چند رشتہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

گزشتہ روز ایک مقامی زمیندار سالم خان رتھ نے ان مغوی خواتین کو بذریعہ پولیس ان کے لواحقین کے حوالے کر دیا۔

 گھر چھوڑ کر جانے والی لڑکی کے کزن محمد منشاء کی رپورٹ پر ملزمان کے خلاف حدود آرڈنینس کی اغواء کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں کسی بھی شخص کو گرفتار نہیں کیا گیا کیونکہ پولیس لڑکے اور لڑکی کے علاوہ دیگر نامزد افراد کو بے گناہ سمجھتی ہے۔
ایس ایچ او سید شاہد عباس

اس سلسلہ میں ان لڑکیوں کے وکیل طاہر شریف ایڈووکیٹ نے پولیس پر ان خواتین کا بیان تبدیل کرنے کا الزام لگایا ہے۔ وکیل نے کہا کہ لڑکی خود اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر گئی ہے لیکن اس کے رشتہ داروں کے خلاف مقدمہ کا اندراج پولیس کی زیادتی ہے۔

پولیس نے ابھی تک ان خواتین کے اغواء میں ملوث کسی بھی ملزم کو گرفتار نہیں کیا ہے۔

ایس ایچ او تھانہ صدر عارف والا سید شاہد عباس نے بتایا ہے کہ انہوں نے ان دونوں خواتین کے اغواء میں ملوث تین ملزمان کو گرفتار کر کے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کہ گھر چھوڑ کر جانے والی لڑکی کے کزن محمد منشاء کی رپورٹ پر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں کسی بھی شخص کو گرفتار نہیں کیا گیا کیونکہ پولیس لڑکے اور لڑکی کے علاوہ دیگر نامزد افراد کو بے گناہ سمجھتی ہے۔

تاہم ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر پاکپتن چوہدری حبیب احمد گھمن نے اس معاملے کی تحقیقات ڈی ایس پی انوسٹی گیشن طاہر اقبال وڑائچ کو سونپ دی ہیں۔

چوہدری حبیب احمد نے کہا کہ اس کیس کی غیر جانبدارانہ انکوائری کی رپورٹ بہت جلد پیش کر دی جائے گی۔

اسی بارے میں
’غیرت‘ کے نام ایک اور قتل
01 August, 2005 | پاکستان
غیرت: قانون میں تبدیلی ضروری
24 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد